فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 18071
(226) ہجرت کرنا جبکہ اس پر والدین ناراض ہوں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 December 2016 10:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیددارالحرب سے دارالاسلام یعنی  مدینہ منورہ ہجرت کرنا چاہتا ہے لیکن اس کےوالدین بی بی بچے اس پرکوئی بھی راضی نہیں ایسی حالت میں زید کےلیے ہجرت کرنا جائز ہےیانہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مستفتی جس مقام میں رہتا ہے وہاں ابھی ایسے حالات نہیں بیدا ہوئے کہ اس کو دارالحرب قراردیا جائے اوروہاںسےہجرت کرنی شرعا فرض ہو پس والدین کی رضا مندی اورااذن ضروری ہے۔

 ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 2۔کتاب الإمارة

صفحہ نمبر 431

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)