فتویٰ نمبر : 17765
(224)قرآن کو ناگری یا انگریزی یا بنگہ یا عبرانی وغیرہ رسم الخط میں لکھنا؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 20 September 2016 04:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قرآن کو ناگری یا انگریزی یا بنگہ یا عبرانی وغیرہ رسم الخط میں لکھنا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرآن کوناگری یاانگریزی یابنگہ یاعبرانی وغیرہ رسم الخط میں لکھنا میرے نزدیک درست نہیں ہے۔ عربی کےکئی حروف ہجا ایسے ہیں جو دوسری زبانوں اور ان کےرسم الخط میں ہیں ،اس کالازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ قرآن مسخ ہوکر رہ جائے ،بس عربی (خط نسخ یا نستعلیق  وامثالھا ) کےعلاوہ کسی بھی عجمی (فرنچ ، جرمنی ،انگریزی ،ایٹالین ناگری ،بنگلہ ،چینی ،روسی وغیرہ ) رسم الخط اورحروف میں قرآن  کا لکھنا اورشائع کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔

عبيدالله رحمانى 21/19/1984ء (محدث بنارس ،شيخ الحديث نمبر 1997) .
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 330

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)