فتویٰ نمبر : 17652
(533)ختم قرآن کے موقع پر دعوت ولیمہ کرنا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 26 July 2016 11:44 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ختم قرآن کے موقع پر دعوت ولیمہ کرناجائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ولیمہ اس وقت مشروع ہے جب نکاح کے بعد خاوند اپنی بیوی کی رخصتی کرا کے گھر لائے۔ جب نبیa کو حضرت عبدالرحمان بن عوف﷜ نے اپنی شادی کی خبردی توآپﷺ نے انہیں فرمایا:’’ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی ہو۔‘‘ خود رسول اللہ ﷺ نے بھی ایسے موقعوں پر ولیمہ کیا ہے۔

ختم قرآن کی مناسبت سے ولیمہ کرنا یا تقریب منعقد کرنا نبیﷺ یا خلفائے راشدین﷢  سے منقول نہیں ہے۔ اگر انہوںِ نے ایسا کی ہوتا تو کسی حدیث میں ضرور اس کا ذکر آتا جس طرح کہ دوسرے احکام شریعت ہم تک پہنچے ہیں۔ لہٰذا ختم قرآن کی مناسبت سے ولیمہ یا تقریب کرنا بدعت ہے اور نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ جن نے ہمارے اس کام (دین ) میں کوئی ایسی چیز ایجا کی جو اس ـمیں نہیں ہے تو وہ ناقابل قبول ہیے ۔‘‘ اور فرمایا : ’’ جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا معاملہ (دین ) نہیں تو وہ (عمل) مردود ہے۔‘‘
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)