فتویٰ نمبر : 17209
(272)قرآن کی بے حرمتی کا حکم
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 19 June 2016 11:14 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایسے شخص کے بارے میں دین اسلام کیا کہتا ہے جس نے مصحف پکڑا اور ایک ایک کر کے اس کے ورق پھاڑنے لگا۔ حالانکہ اسے معلوم ہے کہ یہ قرآن مجید ہے۔ اس کے پاس کھڑے ایک شخص نے اسے کہا بھی کہ ’’یہ تو قرآن ہے‘‘ نیز اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے جس نے مصحف میں سگریٹ بجھایا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ دونوں شخص اپنی اس حرکت کی وجہ سے کافر ہوگئے ہیں کیونکہ انہوںنے اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کی بے حرمتی اور توہین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کا مذاق اڑانے والوں کو مخاطب کرکے فرمایا:

﴿قُلْ أَبِاللَّـهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ﴿٦٥لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ... ٦٦﴾...التوبة
’’کہہ دیجئے کہ تم اللہ کا، اس کی آیتوں کا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے تھے؟ معذرت نہ کرو، تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔‘‘
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)