فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 16675
(16)قیامت کا قائم ہونا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 07 June 2016 02:09 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم اکثر سنتے ہیں کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب تمام روئے زمین پر اسلام عام ہوجائے گا۔ دوسری طرف ہم یہ بھی سنتے ہیں کہ جب تک زمین میں لا اله الا اللہ کہنے والا ایک شخص بھی موجود ہو گا قیامت قائم نہ ہوگی۔ ان دونوں باتوں میں تطبیق کیسے کریں۔

حسین۔ ا۔ ع۔ الریاض

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ دونوں قول صحیح ہیںجو نبی ﷺ کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں ۔ اور وہ یہ ہیں ۔

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک قائم نہ ہوگی جب تک عیسیٰ بن مریم علیہ الصلاۃ والسلام نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا  اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔

پھر آپ ﷺ سے متواتر حدیث واردہیں کہ قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی۔ اللہ تعالیٰ عیسٰیg  کی موت کے بعد اوار سوج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں گے جس سے ہر مومن مرد اور عورت کی روح قبض کر لی جائے گی۔ اس طرح باقی بدترین لوگ ہی رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)