فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 16621
(115)گھر میں اکیلے یاجماعت کےساتھ نماز پڑھنا ہو تو اذان و اقامت کہنا؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 16 May 2016 10:58 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مسجد گھرسےدوتین میل کےفاصلہ پرہے کسی وقت کا میں مشغول رہ جانے کی وجہ سے اتنی دور مسجد میں نہ جاسکے توگھر میں پڑھتے ،وقت اذان واقامت دونوں کہےیا صرف اقامت پراکتفاکرے ؟ 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

گھر میں اکیلے یاجماعت کےساتھ نما ز پڑھنا ہوتوبہتر یہ ہےکہ اذان واقامت دونوں کہی جائیں اوراگر اقامت پر اکتفاکیاجائے تومضائقہ نہیں ۔ گھر میں جماعت کےساتھ اکیلے پڑھنے کی صورت میں اذان کاتاکد نہیں باقیرہتا ۔

قال فى الهداية : ’’ فإن صلى فى بيته فى المصر، يصلى بأذان وإقامة ، ليكون الأداء على هئية الجماعة ، وإن تركه جاز ، لقول ابن مسعود : أذان الحي يكفينا ، ، انتهى ، وقال ابن قدامه فى المغنى : 2/ 74 ) ’’ والذى يصلى فى بيته يجزيه أذان المصر ، وهو قول الشعبى والنخعى وأصحاب الرأى ، وقال الأوزاعى ومالك :تكفيه الإقامة ،،انتهى .  (محدث دهلى فرورى 1942ء ) 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 215

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)