فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 165
کسی شخص کو قطعی طور پر شہید کہنا
شروع از بتاریخ : 06 December 2011 09:11 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے علاوہ کسی شخص کو قطعی طور پر شہید کہنا جائز ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو شخص بھی اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت سے لڑا تووہ شہید ہے۔ لیکن کسی شخص کے جہاد وقتال میں اس کی نیت کیا تھی، اس بارے قطعی طور پر یا تو وہ شخص جانتا ہے یا اس کا رب سبحانہ وتعالی۔ ہم ظن غالب کے طور پر قرائن کی روشنی میں اس کی نیت کے بارے حسن ظن یا سوء ظن رکھ سکتے ہیں لیکن یہ ظن غالب ہو گا نہ کہ قطعی علم۔

شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:

ان كا معاملہ اللہ تعالى كے سپرد جو ان كى نيتوں كو جانتا ہے، كيونكہ جب نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا كہ:

ايك شخص بہادى اور شجاعت كے ليے لڑائى كرتا ہے، اور ايك شخص حميت كےليے اور ايك رياء و دكھلاوے كے ليے لڑتا ہے تو ان ميں سے في سبيل اللہ كون ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے اللہ تعالى كا كلمہ بلند كرنے كے ليے لڑائى كى وہ في سبيل اللہ ہے"

صحيح بخارى ( 1 / 40 ) صحيح مسلم ( 3 / 151 )۔

اور اس بنا پر شہيد اسے شمار كيا جائےگا جو اعلاء كلمۃ اللہ كے ليے لڑتا ہوا قتل ہوا ہو۔

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے، اور اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے۔

ديكھيں: فتاوى اللجنہ الدئمہ للبحوث العلميہ والافتاء ( 12 / 23 )۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)