فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 16428
لڑکی کا نام"ایمان" رکھنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 07 May 2016 10:41 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته!

کیا لڑکی کا نام "ایمان: رکھا جا سکتا ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر "ایمان" نام نہ ہی رکھیں تو زیادہ اچھا ہے۔ کیونکہ اس کے اندر تزکیہ کا معنی پایا جاتا ہے، اور اللہ تعالی نے خود اپنا تزکیہ پیش کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:

﴿فَلا تُزَكّوا أَنفُسَكُم ... ﴿٣٢﴾... سورة النجم

تم اپنے نفسوں کو پاکیزہ بنا کر پیش مت کرو۔

اور اس لیے بھی کہ اگر آپ پوچھیں ایمان ہے؟ اگر بچی وہاں نہ ہو، تو جواب کیا ملے گا: نہیں، جس سے اس بات کی طرف اشارہ ہوگا کہ گویا ایمان کی نفی کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان نام رکھنا بہتر اور افضل نہیں ہے۔

کچھ لوگ ایمان کے بجائے اَیمان نام رکھتے ہیں جو یمین کی جمع ہے اور اس کے معنی ہوتے ہیں ”بہت ساری قسمیں“ تو اس کے اندر بھی کوئی معنویت نہیں پائی جاتی ۔ اس لیے نہ تو اِیمان نام رکھنا صحیح ہے اور نہ ہی اَیمان، اس لیے بہتر ہے کہ آپ عائشہ، فاطمہ، شاکرہ اور سندس جیسے پیارے ناموں میں سے کسی ایک نام کا انتخاب کرلیں۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)