فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 16396
(35)حضور کی پیدائش نور سے ہے؟...
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 05 May 2016 09:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک اہل حدیث مولوی صاحب وعظ میں منبر پربیان فرماتے تھےکہ :

(1)  حضور کی پیدائش نورسے ہے؟

(2)  اگر حضور کوخدا پیدا نہیں کرتا تو آسمان زمین میں جن وانس کچھ نہیں پیدا کرتا ؟

(3)  اور حضور کا لعاب دہن ، مبارک ، خوشبودار ہوتا تھا جتی کہ :

(4)  بول وبزار بھی خوشبودار ہوتا تھا؟

(5)  لوگ جسم پر اپنے :لعاب دہن  مبارک مل لیا کرتے تھے ؟

(6)  حالاں کہ آپ ﷺ اسی خیال سےلعاب دہن اوربول وغیرہ کولوگوں سے پوشیدہ کرکے پھینکا کرتے تھے؟

ایک دفعہ کاواقعہ ہےکہ

(7)  بو ل پوشیدہ کرکے چارپائی کے پیچھے چھپا کررکھا تھا ۔ایک خادمہ نےخاک روبی کرتے ہوئے بول پایا تومارےخوشبوکے ،اٹھا کرپی گئی٭

(8)  اورحضور کےجسم مبارک کاسایہ نہیں ہوتا تھا ۔کیا یہ سب باتیں شج ہیں ؟اگرسچ ہیں توکیا قرآن سےیا حدیث سےثابت ہیں؟

عبدالحلیم ۔سراوہ پٹنہ 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان مولوی صاحب نےاپنےوعظ میں آٹھ باتوں کادعوی کیا ہے نمبر وار ہرایک کےمتعلق مختصرا عرض ہے۔پہلی بات ۔حضور کی پیدائش نور سے ہے۔

غالبا مولوی صاحب مذکورنےیہ دعوی احادیث ذیل کی رو سےکیا ہے: (1)  ’’ أول ماخلق الله نوري ،،.(2) يا جابر ، أولا ماخلق الله نورنبيك من نوره ،، ( 3) أنا من نور الله من الله والمؤمنون مني ،، (4)

پہلی حدیث  معلق بلا سند ذکر کی جاتی ہےاور عام طورسےجہلا کی زبانوں پرجاری ہے۔مگر اس رویت کےموضوع ہونے پرتمام محدثین کااتفاق ہے۔

دوسری روایت زرقانی وغیرہ نےمصنف عبدالرزاق سے بلاسندلکھی ہے۔اورمصنف عبدالرزاق میں موضوع حدیثیں بھی موجود ہیں ، اورفضائل ومناقب میں اس کی روایتوں کاکم اعتبار کیا جاتا ہے ، اس لیے یہ روایت بھی  ناقابل اعتبار ورالتفات ہے۔پہلی اوردوسری  حدیث کے موضوع ہونے کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ صحیح احادیث میں  مخلوقات الہی میں عرش اورپانی کےماسوا سب سے پہلے قلم کی  پیدائش کی تصریح آگئی ہےچنانچہ ارشاد ہے:’’ أول ماخلق الله القلم ،، ( احمد (5/317) والترمذي وصححه ابوداود وسكت عنه ) (ترمذی کتاب القدر باب :18(2155)4؍457 ابوداؤد کتاب السنۃ باب فی القدر ( 4300)5؍76) قال الحافظ :’’ وقدوقع في قصة نافع بن زيد الحميري بلفظ : كان عرشه علي الماء ثم خلق القلم ، فقال: اكتب ماهو كائن ، ثم خلق السموات والأرض ، فصرح بترتيب المخلوقات بعدالماء والعرش ،، قال ويجمع بينه وبين ماقبله ، بأن أوليةالقلم بالنسبتة إلي ماعدا الماء والعرش ، أو بالنسبة إلي مامنه صدر من الكتابة إلي أنه قيل له: اكبت أول ماخلق ،، (فتح الباري 6/289).

تیسری روایت بھی موضوع ہے۔حافظ ابن حجر فرماتے ہیں:’’ لا اعرفہ،، ( تذکرۃالموضوعات ص : 86 ) .

چھوتھی  روایت بھی جھوٹی ہے۔ملا علی قاری حنفی ’’ موضوعات کبیر ،، (ص: 241 ) میں لکھتے ہیں:’’ قال العسقلانی : إنه كذب مختلق ، وقال الزركشي :لا يعرف ، قال ابن تيميه : موضوع ، وقال السخاوي : هو عندالديلمي بلا إسناد عن عبدالله بن جراد مرفوعا :أنا من الله والمؤمنون مني ،، الخ انتهي.دوسری، تیسری ،چوتھی روایت کےغلط اور باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہےکہ صحیح مسلم کی روایت ’’ خلقت الملئكة من نور ،، (ہود :31) اور یہ ہرشخص کومعلوم ہےکہ آں حضرت ﷺ آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اورآدم  علیہ السلام  کی اولاد سےہیں آدم علیہ اسلام کی تخلیق مٹی سےہوئی ہے،اس لیے آں حضر ت ﷺ کےبجائے نور ۔مٹی سے پیداہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا ۔حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا سےمرفوعا مروی ہے:’’ خلقت الملئكة من نور ، وخلق الجان من نارج من نار وخلق آدم مما وصف لكم ،، ( مسلم )  (کتاب الزہد والرقائق باب فی احادیث متفرقۃ ( 3996)4؍229) اور یہ روایتین عقلا بھی غلط اور باطل ہیں کیوں کہ اگر نور خدا سےہونے کا یہ معنی ہےکہ آپ ﷺ کانورعین وکل نورخدا ہے،تو آں حضور ﷺ کاخدا ہونا لازم آئے گا ۔اور اگر یہ نورجزونور خدا ہے۔خدا کی تجزی اورقسمت لازم آئے گی ، اوریہ دونوں صورتیں باطل  ہیں ۔

بہر کیف مولوی صاحب کی پہلی بات عقلا اور نقلا باطل اور غلط ہے۔یہ عقیدہ اورقول توبدعتیوں کا ہے ، اس لیے مجھے مولوی مذکور کے اہل حدیث ہونے کا یقین بلکہ تصور بھی نہیں ہوتا ۔شخص مذکورقطعا جاہل اوربدعقیدہ ہے۔

دوسری بات: اس حدیث سےماخوذ ہےجو عام طور پر بدعتیوں کی زبان پرائج اور جاری ہے’’ لو لا ک لما خلقت الافلاک ،، لیکن یہ روایت موضوع اورجھوٹی ہے۔’’ قال الصغاني : موضوع ، كذا في الخلاصة ،، ( تذكرة الموضوعات ص : 86 والموضوعات الكبير للملا علي القاري الحنفي  ص : 59، والفوائد المجموعه للشكوكاني   یہ حدیث  دیلمی اورابن عساکر نے بالترتیب یوں روایت کی ہے:’’ عن ابن عباس مرفوعا ، أتاني جبريل ، فقال :يا محمد لولاك ماخلقت الجنة ولولاك ما خلقت النار ، وفي رواية ابن عساكر : لولاك ماخلقت الدنيا ،، مگر مسند الفردوس دیلمی کی  اورتاریخ ابن عساکر کی موضوع اورجھوٹی روایتوں سے پر ُہیں ۔

تیسری بات :’’ آپ کا لعاب دہن مبارک خوش لودارہوتا تھا ،، آپ ﷺ کےلعاب دہن کےخوشبودار ہونے کےبارے میں کوئی صحیح یا ضعیف حدیث مجھے نہیں ملی ۔اور میں وثوق سےکہتا ہوں کہ یہ محض دعوی ہےجوکسی روایت سے ثابت نہیں ۔اگر اس مضمون کی کوئی روایت بسند صحیح ثابت ہو،توتسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔

چوتھی بات :’’ بول وبزار بھی خوش بودار ہوتا تھا، قطعا جھوٹ اورغلط اوربے ثبوت ہے۔کسی روایت سےآپ ﷺ کےبول وبراز کا خوشبودار ہونا ثابت نہیں ہے ۔اسی لیے کسی معبتر محدث یا فقیہ نے اس کےخوشبودار ہونے کا دعوی نہیں کیا ہے۔

پانچویں بات : لوگ اپنے بدن پرلعاب دہن مبارک مل لیا کرتے تھے ۔بلاشک وشبہ صحابہ کرام فرط عقیدت وغایت محبت اور انتہائی عشق نبی ﷺ  کی بنا پر آپ کا رینٹھ اورتھوک ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے اوراپنے چہروں  اور جسموں پرمل لیا کرتے تھے ،اورآپ ﷺ کے وضو کا پانی بھی اپنے جسموں پرمل لیتے تھے ۔لیکن اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ تھوک اورربنٹھ اور وضوہ کا پانی خوشبودار ہوتا تھا ۔بلکہ انتہائی محبت رسول ومحبت نبی ووالہانہ شیفتگی وعقیدت کی بنا پر تبرکا ایسا کرتے تھے اورتبرکا عقیدہ ایسا کرنے سے ثابت نہیں ہوتا کہ وہ خوشبودار بھی ہوتا تھا ۔صلح حدیبیہ کےموقع پرصحابہ کرام نےعروہ (بن مسعود ) کی موجودگی میں آپ ﷺ کا رینٹھ اور تھوک اپنے بدنوں پرمل کر جس شیفتگی اور حیرت انگیز عقیدت کااظہار کیا ہے۔اوس کے متعلق حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:’’وفيه طهارة النخامة والشعرالمنفضل ، والتبرك بفضلات الصالحين الطاهرة ،ولعل الصحابة فعلوا ذلك بحضرة عروة ، وبالغوافي ذالك ، إشارة منهم إلي  الرد علي ماخشيه من فراهم ، فكأنهم قالوا بلسان الحال من يجب اماما هذه المحبة ويعظمه هذاالتعظيم ، كيف يظن أنه يفر عنه ويسلمه لعدوه ، بل هم أشداغتبا طابه ، وبدينه ونصره من القبائل التي يراعي بعضها بعضا بمجرد دالرحم ،،( فتح الباري ----)(اس حوالےکا پتہ نہیں کہا ہے.....بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالب 4؍207،مسلم کتاب فضائل الصحابۃ ، باب مناقب علی (2404)4؍1871 ) کتاب المغازی باب عزوۃ    الحندق 5؍44)یہ بھی صحیح ہے کہ آں حضرت  ﷺ کا لعاب دہن باعث برکت وشفا تھا ، چنانچہ آپ ﷺ کا لعاب دہن لگانے سےحضرت علی ﷜ کا آشوب جشم دور ہوگیا تھا ( بخار  ی مسلم)(1) خالد بن الولید کازخم لعاب دہن لگانے سےاچھا ہوگیا (مسند احمد، عبدالرازاق ۔عبدبن حمید ۔ابن عساکر ) آپ ﷺ کی کلی پانی پینے اورچھڑکنے سےایک گونگا اچھا ہوگیا اوربولنے لگا ( ابن ماجہ وابو نعیم ) لعاب نبوی  ملنے سے ایک جلا ہوابچہ اچھا ہوگیا تھا(مسند احمد بن حنبل ،مسند ابوداؤد طیالسی ۔تاریخ بخاری ۔خصائص کبریٰ للسیوطی ) ایک صاع آٹے اور بکری کےگوشت میں لعاب  دہن ملا دینے سے اتنی برکت ہوئی کہ ہزاروں آدمی آسودہ ہوگئے اورآٹے اورگوشت میں کوئی کمی  نہیں ہوئی ( بخاری) (1) ۔غرض یہ کہ اس قسم کے واقعات ایک دفعہ نہیں  بلکہ متعدد دفعہ پیش آئے ، لیکن کسی واقعہ سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ آپ ﷺ کا لعاب دہن یارینٹھ خوشبودار بھی ہوتا تھا۔آپ ﷺ کا مجسم باعث خیر وبرکت وسبب شفا ہونا اورچیز ہےاو رلعاب دہن کا خوشبودار ہونا او رچیز ہے،دونوں میں ملازم نہیں ہے۔ہاں اگر کسی صحیح روایت سےیہ ثابت ہوجائے تو آمنا وصدقنا ۔

چھٹی بات: آپ ﷺ اسی خیال سے لعاب دہن اوربول وغیرہ لوگوں سے پوشیدہ کرکے پھنکا کرتے تھے ۔لعاب دہن اوررینٹھ کےمتعلق پوشیدہ کرکے پھینکنے کا دعویٰ  محض  غلط اورباطل  اور بے ثبوت ہے۔رہا بول وبراز توآں حضرت ﷺ گھر کے بیت الخلاء میں  پیشاب ، پاخانہ کرتے تھے یا اگر باہر ہوتے تو اتنی دور میدان میں جاتے کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں اور یہ صرف اس لیے کہ پیشاب  پاخانہ کے حالت میں تستر ضروری اور لازم ہےاور یہ ظاہر ہےکہ آں حضرت ﷺ سے بڑھ کرکوئی دوسرا شخص شرم وحیا اوراحتیاط اورپردے والانہیں تھا ۔قضائے حاجت کی حالت میں غایت درجے کے پردے اورتستر کی وجہ یہ نہیں  تھی کہ لوگوں سے اپنے بول وبراز کو محفوظ رکھنا مقصود تھا۔تاکہ لوگ اس کی خوشبو کی وجہ سے ا س کو تبرک بنا کر تقسیم نہ کرلیں بہرحال یہ دعویٰ جہل وحماقت کی دلیل ہے ۔

ساتویں بات : ’’ ایک دفعہ بول پوشیدہ کرکے چار پائی کے نیچے  چھپا کر کے رکھا تھا ، ایک خادمہ نے خاک روبی کرتے ہوئے بول پایا ،تومارے خوشبو.کہ اٹھاکرپی گئی،،۔اصل واقعہ  درج کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوگا کہ اس جاہل مولوی نےاپنے باطل مزعومہ کی بنا پر اس میں کس قدر آمیزش کی ہے’’ روي أن أم أيمن شربت بول النبيﷺ ، رواه الحاكم والدارقطني والطبراني وابو نعيم ،وأخرج الطبراني في الأوسط في رواية سلمي امراءه ابي رافع ، أنها شربت بعض ماغسل به رسول لله ﷺ ، فقال لها حرم الله بدنك علي النار ،، ( عيني شرح بخاري 3/35) مفصل روايت حافظ ابن حجرنے ’’ اصابہ ،، میں باین الفاظ ذکر کی ہے: ’’ عن أم أيمن ، قالت : كان البني  ﷺ فخاره يبول فيها بالليل ، فكنت أذا أصبحت صببتها، فنمت ليلة وأنا عكاشانه ، فغلطت فشربتها ، فذكرت ذلك للنبي  ﷺ ، فقال : أنك لا تشكي بطنك بعد يومك هذا،، ( الاصابة في تمييز الصحابة 4/433).اس روایت سے  واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ رات میں کسی عذر کےبنا پر پیالے میں پیشاب کرتے تھے جوصبح کوپھینک دیا جاتا تھا اور حضرت ام ایمن  رضی اللہ عنہا نےایک رات پیاس کی حالت میں پیالہ میں پانی سمجھ کر غلطی  سے اس کوپی لیا تھا۔نہ اس روایت میں بول کو چھپا کر رکھنے کا ذکر ہے اورنہ اس کے خوشبودار ہونے کا اورنہ اس بات کا کہ ام ایمن نے خوشبو کی وجہ سےقصداً پی لیا تھا۔زیادہ سےزیادہ اس واقعہ سے یہ مسئلہ مستنبط کیا جاسکتاہےکہ آنحضرت  ﷺ کا پیشاب پاک ہےجیسا کہ چاروں اماموں کےمقلدین یہ کہتے ہیں کہ : آں حضرت کا پیشاب اورخون وغیرہ طاہر اورغیر نجس ہے۔حافظ فرمانے  ہیں:’’ قد تكاثرت الأدلة علي طهارة فضلاته ، وعد الأئمة ذلك في خصائصه ، فلا يلتفت إلي ماوقع في كتب كثير من الشافعي مما يخالف ذلك ، فقد استقرالأمربين ائمتهم علي القول بالطهار،، ( فتح الباري 1/ 272) لیکن خود چاروں اماموں سےصحیح سند سے یہ ثابت نہیں ہےکہ وہ آں حضرت ﷺ کےبول وخون وغیرہ کےطہارت کے قائل تھے۔اسی واسطے مولوی انورشاہ  حنفی مرحوم فرماتے ہیں:’’ ثم مسئلة طهارة فضلات الأنبياء تو جد في كتب المذاهب الأربعة ، ولكن لا نقل فيها عندي عن الأئمة ، إلا مافي المواهب عن ابي حنيفة  رحمه الله تعالي ، نقلا عن العيني ، ولكن ماجدته في العيني ،، ( فيض الباري علي صحيح البخاري 1/251).

ہمارے نزدیک مذکورہ بالا روایت سے طہارت ثابت کرنا درست نہیں ۔غلطی سےپی جانے سےکسی چیز کاطاہر ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔رہ گیا اس کی وجہ سے پیٹ میں کسی بیماری کا پیداہونا ، توشفا کبھی بجس اورحرام چیز سےبھی حاصل ہوجاتی ہے۔جیسا کہ حنفیہ و شافعیہ اونٹ کا پیشاب ناپاک کہتے ہیں اورباجود اس کے آں حضرت ﷺ نے عرینین کواونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا تھا تاکہ ’’ استسقا ،،کی بیماری دور ہوجائے ۔بہرکیف آپ ﷺ کےبول وبراز ولعاب دہن کا خوشبودار ہوناکسی صحیح یا ضعیف روایت سےثابت نہیں۔

ومن ادعی فعلیہ البیان .

بعض روایتوں سےمعلوم ہوتا ہےکہ آپ ﷺ کا پسینہ خوشبودار تھا۔لیکن قطع نظر ان روایتوں کی صحت سے، یہ امر قابل غور ہےکہ پسینہ کی  خوشبو قدرتی تھی ، یاکثرت سےبدن اورکپڑے میں خوشبواستعمال کرنے کی وجہ سے ۔! بہر کیف وہ روایت درج کی جاتی ہے: قال الشوكاني : ’’  حديث أنه صلي لله عليه سلم أعطني رجلا عرق ذراعيه، وجعله في قارورة حتي امتلأت ، فكان يتطيب به ، فيشم أهل المدينة منه ريحاطيبة ، وسموه بيت المطيبين ، راوه الخطيب عن أبي هريرة مرفوعا، وهو موضوع ،، ( الفوائد الجموعة ص /205) ، ’’ عن أبي هريرة ، أن رجلا أتي النبي صلي الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله إني زوجت ابتي ، وإني أحب أن تعينني بشئ ، فقال: ماعندي من شئ ،ولكن اذا كان  غدفتعال ، فجئ بقارورة واسعة الرأس وعود شجرة الحديث أخرجه الطبراني في الأسط ، وفيه حسن الكلبي وهو متروك ،، ( مجمع الزوائد 8/283) معلوم ہواکہ یہ دونوں روایتیں قریب موضوع وناقابل اعتبار ہیں۔

آٹھویں بات ’’ حضور ﷺ کےجسم مبارک کاسایہ نہیں ہوتا تھا،، یہ دعوی موقوف ہےآپ ﷺ کی پیدائش نور سےثابت ہونے پر اورآپ ﷺ کی پیدائش کا نور سےہونا ثابت نہیں ہے۔اس لیے آپ کےجسم کا سایہ نہ ہونا بھی لغو اورباطل ہے۔تعجب ہےکہ آپ ﷺ کا جسم دوسرے انسانوں جیسا تسلیم کرتے ہوئے اورآپ ﷺ کی بشریت اورانسانیت کا قائل ہوتے ہوئے ، آپ ﷺ کےجسم کےلیے سایہ نہ ہونا کس طرح عقل میں آگیا ۔میرے خیال میں قطعی طور پر مولوی مذکورپکا بدعتی ، جاہل اورٹھگ ہے، جس کوعلم اورعقل وخردسے مس تک نہیں ہے۔اہل حدیثوں کوگمراہ کرنےکےلیے اپنی اہل حدیثیت ظاہر کرکے ان میں بدعت پھیلانا چاہتا ہے یا آپ نے اس کو غلطی  سے اہل حدیث سمجھ لیا ہے یالکھ دیا ہے۔آں حضرت کی خوبیوں اورفضیلتوں سے سارا قرآن اورکتب احادیث صحیحہ بھری پڑی ہیں۔جن سےمعلوم ہوتا ہے دنیا میں  آپ ﷺ سےپہلے نہ کوئی ایسا کامل اورجامع انسان پیدا ہوا، اورنہ آپ ﷺ کےبعد رہتی دنیا تک کوئی انسان ایسا پیدا ہوگا۔عربی کےعلاوہ اردو زبان میں اب تک متعدد کتابیں سیرت پر لکھی جاچکی ہیں۔کم ازکم انہی کوغور سے پڑھ لیا جائے ،تو نورنامہ جیسی بیہودہ کتاب راہ راست سےنہ ہٹا سکے گی۔اورآں حضرت ﷺ کےفضائل کےلیے غلط اورجھوٹی روایات بیان کرنےکی ضرورت نہیں ہوگی ۔(محدث دہلی ج:1 ش:6 شوال 1365ھ ؍ستمبر 1947ء)

٭   حنفیہ بالاتفاق اورشافعیہ علی القول الصحیح رسول اللہ ﷺ کے فضلات یعنی : پیشاب،خون کی طہارت کےقائل ہیں۔عینی حنفی شرح بخاری 3؍33 میں لکھتے ہیں: ’’ وَقد وَردت أَحَادِيث كَثِيرَة أَن جمَاعَة شربوا دم النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، مِنْهُم أَبُو طيبَة الْحجام، وَغُلَام من قُرَيْش حجم النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، وَعبد الله بن الزبير شرب دم النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، رَوَاهُ الْبَزَّار وَالطَّبَرَانِيّ وَالْحَاكِم وَالْبَيْهَقِيّ وَأَبُو نعيم فِي (الْحِلْية) . ويروى عَن عَليّ، رَضِي الله تَعَالَى عَنهُ، أَنه شرب دم النَّبِي، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، وَرُوِيَ أَيْضا أَن أم أَيمن شربت بَوْل النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم، رَوَاهُ الْحَاكِم وَالدَّارَقُطْنِيّ وَالطَّبَرَانِيّ وَأَبُو نعيم، وَأخرج الطَّبَرَانِيّ فِي (الْأَوْسَط) فِي رِوَايَة سلمى امْرَأَة ابي رَافع أَنَّهَا شربت بعض مَاء غسل بِهِ رَسُول الله، عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَام، فَقَالَ لَهَا حرم الله بدنك على النَّار،،.انتهي

اور حافظ فتح الباری طبع انصاری ب اول ص : 136 میں لکھتے ہیں:’’ وَالْحَقُّ أَنَّ حُكْمَهُ حُكْمُ جَمِيعِ الْمُكَلَّفِينَ فِي الْأَحْكَامِ التَّكْلِيفِيَّةِ إِلَّا فِيمَا خُصَّ بِدَلِيلٍ وَقَدْ تَكَاثَرَتِ الْأَدِلَّةُ عَلَى طَهَارَةِ فَضَلَاتِهِ وَعَدَّ الْأَئِمَّةُ ذَلِكَ فِي خَصَائِصِهِ فَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى مَا وَقَعَ فِي كُتُبِ كَثِيرٍ مِنَ الشَّافِعِيَّةِ مِمَّا يُخَالِفُ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْأَمْرُ بَيْنَ أَئِمَّتُهُمْ عَلَى الْقَوْلِ بِالطَّهَارَةِ،، انتيهي.

اور حافظ اصابہ 2؍ 320 میں عبداللہ بن زبیر کےترجمہ میں لکھتے ہیں:’’أخرج أبو يعلي واليهقي في الدلائل ، أن عبدالله بن الزبير حدث ، أنه أتي النبي صلي الله عليه وسلم وهو يحتجم ، فلما فرغ، قال : يا عبدالله اذهب بهذا الدم فاهرقه حيث لا يراك أحد، فلما برز عن رسول الله صلي لله عليه وسلم عمدإلي الدم فشربه ، فلما رجع ، قال : يا عبدالله ما صنعت بالدم ؟ قال: جعلته في أخفي مكان علمت أنه يخفي علي الناس ، قال : لعلك شربته؟ قال: نعم، ولم شربت الدم ؟ ويل للناس منك وويل لك من الناس . قال  أبوموسي : قال أبو عاصم : فكانوايرون أن القوة التي به لذلك الدم ، وله شاهد من طريق كيسان مولي ابن الزبير عن سلمان  الفارسي روايناه في جز ء القطريف وزاد في آخره: لا تمسك النار إلا تحله القسم .،،

اور اصابہ 4؍319 میں ام ایمن رضی للہ عنہا کےترجمہ میں لکھتے ہیں:’’ أخرج ابن السكن بسنده عن أم أيمن ، قالت : كان للنبي  صلي لله عليه وسلم فخارة يبول فيها بالليل ، فكنت إذا أصبحت صببتها ، فنمت ليلة وأنا عطشانه ، فغلطت فشربتها، فذكرت ذلك للنبي  صلي لله عليه وسلم ، فقال : إنك لا تشتكي بطنك بعد يومك هذا،،.

برکہ الحبشیۃ خادمہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کےمتعلق بھی مصنف عبدالرزاق وغیرہ میں اسی قسم کاواقعہ مروی ہے۔اصابہ 4؍243 میں ہے’’ أن النبي  صلي الله عليه وسلم كان يبول في قدح من عيدان ، ويوضع تحت السرير ، فجاءت ليلة فإذا القدح فيه شئي ، فقال لامرأة كان يقال لها بركة ، كانت خادمة لأم حبيبة جاءت معها من أرض الحبشة، البول الذي كان في هذا القدح مافعل ، قالت : شربته يا رسول الله ،،.

ان روایات میں آں حضرت ﷺ کےپیشاب اورخون کےبارے میں یہ ہے کہ عبداللہ بن زبیر ،ام ایمن اوربرکۃ نے آپ کا پیشاب اورخون نوش کیا۔آپ ﷺ کےبراز ( پیخانہ) کےبارے میں ایسی کوئی روایت نظر سےنہیں  گزری ی۔ظاہر یہ ہےکہ روایت میں غطلت کا لفظ اس بارے میں نص ہے۔اور عبداللہ بن زبیر  ﷜ کےواقعہ میں مذکور ہےکہ آپ ﷺ  نے تنبیہا ان سے فرمایا ’’ ولم شربت الدم ،، بہرحال واقعات مذکورہ میں آپ ﷺ کا معاملہ امت سےالگ ہے۔عبداللہ بن زبیر کےواقعہ میں یہ بھی ہےکہ آپ نے ’’ ویل لک من الناس وویل للناس منک ،، فرمایا۔اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نےان کی خلافت وامارت  کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ان کےاورلوگوں کےحق میں خرابی اور ہلاکت کا ذریعہ بنےگی  ۔واللہ اعلم ۔

تبلیغ کےفضائل میں مذکورہ واقعات کےذکر کرنے اور فضلات نبوی  کی طہارت کا مسئلہ ذکر کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اوراس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ اس کے سمجھنے سےمیں قاصرہوں ۔افسوس ہےسہاربپوری صاحب اپنی اس قسم کی کتابوں اس طرح کی بے ضرورت بحثیں اوررطب ویابس قصے اوربے ثبوت روایتیں ذکر کردیا کرتےہیں۔  عببداللہ الرحمانی 29؍2؍99ھ  (مکاتیب شیخ رحمانی    (بنام مولانا امین اثری ص: 105؍ 106؍107)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری

جلد نمبر 1

صفحہ نمبر 104

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)