فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 16086
(312) عالم اسلام کی موجودہ مشکلات کا حل کیا ہے؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 April 2016 10:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عالم اسلام کی موجودہ مشکلات کا حل کیا ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عالم اسلام اس وقت اختلاف سے دوچارہے ،اس کا علاج یہ ہے کہ وہ اسلام سے وابستہ ہوجائے اورزندگی کے ہر شعبہ میں اللہ  تعالی کی شریعت کو نافذ کردے،اس کی صفوں میں جو انتشاروخلفشارہے وہ مٹ جائے گااوردلوں میں وحدت ویگانگت پیدا ہوجائے گی۔عالم اسلام بلکہ کل عالم اس وقت جس اضطراب واختلاف اورقلق وفسادسےدوچارہے،اس کا شافی علاج یہی ہےجیسا کہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تَنصُرُ‌وا اللَّهَ يَنصُر‌كُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم ﴿٧﴾... سورة محمد

‘‘اے اہل ایمان اگرتم اللہ کی مددکروگےتووہ بھی تمہاری مددکرے گااورتم کو ثابت قدم رکھے گا۔’’

اورفرمایا:

﴿ وَلَيَنصُرَ‌نَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزيزٌ ﴿٤٠ الَّذينَ إِن مَكَّنّـٰهُم فِى الأَر‌ضِ أَقامُوا الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَوُا الزَّكو‌ٰةَ وَأَمَر‌وا بِالمَعر‌وفِ وَنَهَوا عَنِ المُنكَرِ‌ وَلِلَّهِ عـٰقِبَةُ الأُمورِ‌ ﴿٤١﴾... سورة الحج

‘‘اورجوشخص اللہ (کے دین)کی مددکرتا ہےاللہ اس کی  مددضرورکرےگابے شک اللہ تعالی زبردست قوت اورغلبے والا ہے،یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس(قدرت واختیار)دیں تو نماز قائم کریں،زکوۃ اداکریں اورنیک کام کرنے کا حکم دیں اوربرے کاموں سے منع کریں اورسب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار  میں ہے۔’’

مزیدفرمایا:

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّـٰلِحـٰتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَر‌ضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ار‌تَضىٰ لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا يَعبُدونَنى لا يُشرِ‌كونَ بى شَيـًٔا...﴿٥٥﴾... سورة النور

‘‘جولوگ تم میں سے ایمان لائے اورنیک کام کرتے رہےان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادےگاجیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اوران کے دین کو ،جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے ،مستحکم و پائیدارکرےگا اورخوف کےبعد ان کو امن بخشے گا۔وہ میری عبادت کریں گے اورمیرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔’’

اورفرمایا:

﴿وَاعتَصِموا بِحَبلِ اللَّهِ جَميعًا وَلا تَفَرَّ‌قوا ...﴿١٠٣﴾... سورة آل عمران

‘‘اورسب مل کراللہ کی(ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنااورمتفرق نہ ہونا۔’’

اس مضمون کی اوربھی بہت سی آیات ہیں ۔لیکن جب تک قائدین،کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺکو چھوڑ کرکسی اورجگہ سے ہدایت وراہنمائی حاصل کرتے رہیں گے،اللہ تعالی کی شریعت کو نافذ نہیں کریں گے اوراس کےبجائے ایسے قوانین نافذ کریں گے جو ان کے دشمنوں نے ان کے لئے بنائے ہوں تووہ اس پسماندگی اوراس انتشاروخلفشارسے کبھی نجات نہیں پاسکیں گے،دشمن انہیں حقیر سمجھتا رہے گا اورکبھی بھی انہیں ان کے حقوق نہیں د ے گا۔آہ:

﴿وَما ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلـٰكِن أَنفُسَهُم يَظلِمونَ ﴿١١٧﴾... سورة آل عمران

‘‘اوراللہ تعالی نے ان پر کوئی  ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔’’

ہم اللہ تعالی سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ سب مسلمانوں کو ہدایت پر جمع فرمائے،ان کے قلوب اوراعمال کی اصلاح فرمائے اوران پر اپنا یہ فضل وکرم فرمائے کہ یہ اس کی شریعت کو نافذ کریں اورپھر استقامت کے ساتھ شریعت ہی کے دامن سے وابستہ رہیں اورشریعت کی  ہر طرح کی مخالفت کرترک کردیں بے شک وہی قادروکارساز ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص425

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)