فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 16060
(302) کسی دوسرے کے خون سے علاج
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 18 April 2016 08:52 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
علاج کے لئے کسی دوسرے کے خون کواستعمال کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب ضرورت ہو تودوسرے کے خون کو علاج کے لئے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جب کہ کوئی دوسرامسلمان بھائی داکٹر کی نگرانی اوراس کی رپورٹ پر اپنے خون کا عطیہ دے اورخون دینے والے کو بھی کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو،ارشادباری تعالی ہے:

﴿وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّ‌مَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِ‌ر‌تُم إِلَيهِ ... ﴿١١٩﴾... سورة الانعام

‘‘جو چیزیں ہم نے تمہارے لئے حرام ٹھہرادی ہیں، وہ ایک ایک کرکے بیان دی ہیں(بے شک ان کو نہیں کھانا چاہئے) مگر اس صورت میں کہ ان کےلئےناچارہوجاو۔’’

اورنبی کریم ﷺکا فرمان ہے کہ‘‘مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے ۔وہ اس پر  ظلم نہ کرے اورنہ(ظلم کے لئے) اسے کسی اور کے سپرد کرکرے۔جوشخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پوراکرتا ہےتواس کی ضرورت کواللہ تعالی پورافرماتاہے۔’’(متفق علیہ بروایت حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ)اس مضمون کی اوربھی بہت سی احادیث ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص420

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)