فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 16
عورت کا عورتوں کےلیے جماعت کروانا
شروع از بتاریخ : 18 September 2011 02:19 PM
السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

 کیا عورت کا عورتوں کےلیے جماعت کروانا صحیح ہے۔؟


 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت کے لیے عورتوں کی امامت کروانا درست ہے اور امامت کرواتے وقت آگے کھڑی نہیں ہو گی بلکہ ان کے درمیان میں کھڑی ہو گی۔ اگر عورت امامت كروائے تو وہ عورتوں كے درميان كھڑى ہوگى اس كى دليل بیان کرتے ہوئے امام ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى فرماتے  ہيں:

’’ اسى طرح عورتوں كى امامت كروانے والى كے ليے ہر حالت ميں عورتوں كے درميان كھڑا ہونا مسنون ہے، كيونكہ وہ سب كى سب پردہ ہيں ‘‘ (المغنى (1 / 347 )

 امام نووى رحمہ اللہ تعالى فرماتے ہيں:

" سنت يہ ہے كہ عورتوں  كى امام كروانے و الى عورت ان كے وسط اور درميان ميں كھڑى ہو گى، اس كى دليل سیدہ عائشہ اورسیدہ  ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے كہ انہوں نے عورتوں كى امامت كروائى اور وہ ان كے وسط ميں كھڑى ہوئيں " ( المجموع شرح المھذب ( 4 / 192 )

اگر عورتيں نماز باجماعت ادا كريں تو ان كى امام عورت ان كے وسط ميں كھڑى ہو گى، كيونكہ اس ميں زيادہ ستر اور پردہ ہے، اور پھر عورت سے تو بقدر استطاعت پردہ اور ستر مطلوب ہے، اور يہ معلوم ہے كہ عورت كا عورتوں كے درميان كھڑا ہونا ان كے سامنے كھڑا ہونے سے زيادہ پردہ اور ستر ہے اس كى دليل عائشہ اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہما كى حديث ہے:

" وہ دونوں جب امامت كرواتيں تو ان كى صف ميں كھڑى ہوتيں "

يہ صحابيہ كا فعل ہے، جب اس كى مخالفت ميں كوئى نص نہيں تو صحيح يہى ہے كہ يہ حجت ہے، اور عورت ايك عورت كے ساتھ ہو تو وہ ايك مرد كے ساتھ كھڑا ہونے كى طرح ہى عورت كے پہلو ميں كھڑى ہو گى " (الشرح الممتع لابن عثيمين ( 4 / 387 )

هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)