فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 15951
(244) ایک عورت نے اپنے شوہر کے سوء تصرف کی شکایت کی ہے۔
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 April 2016 08:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک عورت نےاپنےشوہرکےسوءتصرف کی شکایت کی ہےتواس کےبارےمیں کیاحکم ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امرواقعہ اگراسی طرح ہےجیسےتم نےسوال میں ذکرکیاہےکہ تمہاراشوہرنمازنہیں پڑھتااوردین کوگالیاں دیتاہے،تووہ اس وجہ سےکافرہےلہٰذاتمہارےلئےاس کےساتھ بیوی کی حیثیت سےرہنااوراس کےساتھ زندگی بسرکرناحلال نہیں ہےبلکہ واجب یہ ہےکہ اپنےوالدین کےپاس چلی جاؤیاکسی اورپرامن جگہ،کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نےان مومن عورتوں کےبارےمیں جوکفارکےپاس ہوں،فرمایاہے:

﴿لا هُنَّ حِلٌّ لَهُم وَلا هُم يَحِلّونَ لَهُنَّ...﴿١٠﴾... سورة الممتحنة

‘‘نہ یہ(مسلمان)عورتیں ان(کافروں)کےلئےحلال ہیں اورنہ(کافرمرد)ایماندارعورتوں کےلئےحلال ہیں۔’’

اورنبی کریمﷺنےفرمایاہےکہ‘‘وہ عہدجوہمارےاوران کےدرمیان ہےوہ نمازہے،جواسےترک کردےوہ کافرہے۔’’دین کوگالی دیناکفراکبرہےاوراس پرتمام مسلمانوں کااجماع ہےلہٰذاتم پرواجب ہےکہ اللہ تعالیٰ کےلئےاس سےبغض رکھو،اسےچھوڑدواوراسےجنسی تعلق کی اجازت نہ دو،اللہ تعالیٰ کاارشادہے:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ﴿٢ وَيَر‌زُقهُ مِن حَيثُ لا يَحتَسِبُ ... ﴿٣﴾... سورة الطلاق

‘‘اورجوکوئی اللہ سےڈرےگا،وہ اس کے لئے (رنج غم سے)خلاصی کی صورت پیداکردےگااوراس کو ایسی جگہ سےرزق دے گا جہاں سے اسے(وہم و)گمان بھی نہ ہو۔’’

اگر تو اپنے اس بیان میں سچی ہے تواللہ تعالی تیرے معاملہ کو آسان بنائے،تجھے اس کے شرسےبچائے،اسےحق کے قبول کرنے اوراسے توبہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص374

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)