فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15915
(208) امتحانات میں خیانت کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 April 2016 01:34 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جوشخص امتحانات میں خیانت کرے،اس کےبارےمیں کیاحکم ہے؟میں بہت سےطلبہ کوجب امتحانات میں خیانت کرتےہوئےدیکھتاہوں توانہیں سمجھاتاہوں لیکن وہ کہتےہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امتحانات،عبادات اورمعاملات،سب میں خیانت حرام ہےکیونکہ نبی کریمﷺکاارشادہے:

«من غشنافليس منا»_ «من غشنافليس منا»_والله ولي التوفيق

کہ‘‘جوہمیں دھوکادےوہ ہم میں سےنہیں ہے۔’’

اورپھراس دھوکاوخیانت کےنتیجہ میں دنیاوآخرت کےبہت سےنقصانات مرتب ہوتےہیں لہٰذاواجب ہےکہ اسےترک کردیاجائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص329

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)