فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15800
(126) میرا اپنے بھائی سے جگڑا ہوا تو میں نے اسے کہہ دیا ،اے کافر!
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 13 April 2016 01:46 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرا ایک مسئلہ میرا اپنے بھائی سےجگڑا ہوگیا توغصہ کی حالت میں میں نے اسےیہ کہہ دیا کہ ‘‘اے کافر!مجھ سےدورہوجا۔’’یہ میں نے اس لئے کہا کہ وہ نماز نہیں پڑھتا،صرف خاص خاص موقعوں پر ہی پڑھتا ہے۔مثلا جب رشتہ داروغیرہ آئے ہوئے ہوں،تواس بارےمیں کیا حکم ہے؟کیا یہ بات صحیح ہے کہ وہ کافر ہی ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صحیح حدیث سے ثابت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ‘‘آدمی اورکفر وشرک کے درمیان فرق ترک نماز سے ہے۔’’اس حدیث کو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نےروایت کیا ہےاورامام احمدرحمۃ اللہ علیہ اوراہل سنن نے جید سند کے ساتھ حضرت بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا‘‘وہ عہد جوہمارے اوران کے مابین ہے وہ نمازہے،جواسے ترک کردے ،وہ کافر ہے۔’’اس مفہوم کی اوربھی بہت سی احادیث ہیں لیکن اس طرح کے حالات میں یہ مناسب نہیں کہ آپ فوراکفر کا لفظ استعمال کریں۔آپ کو چاہئے کہ پہلے اسے یہ سمجھائیں کہ ترک نمازکفر وضلالت ہے،لہذا واجب ہے کہ اللہ تعالی کی جناب میں توبہ کرو،ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری بات سن کر نصیحت کو قبول کرتے ہوئے توبہ کرلے ۔ہم اللہ تعالی سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو تمام گناہوں سے خالص توبہ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص253

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)