فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 15770
(32)طاعون کا ٹیکہ لینا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 13 April 2016 12:05 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

1-شرع شریف کا کیا حکم ہے، اناکیولیشن وبائے طاعونی کا ٹیکہ محض حفاظتِ جان کے لیے مسلمانوں کو لینا عند الشرع شریف کیا ناجائز ہے؟

۲۔ اور جس نے ٹیکہ لیا وہ مسلمان کیا نہیں رہتا؟

۳۔ کیا کسی وبا یا مصیبت کے ازالہ میں اپنے اور اپنی قوم کے لیے کوشش کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

۴۔ کیا ظہور آثار و علامت و با میں بنظر حفظ صحت نقل مقام چاہیے کہ نہیں؟ 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جواب ۱: صورت مستفسرہ میں ٹیکہ وبائے طاعونی کا مسلمان لے سکتا ہے، جبکہ اس باب میں کوئی ممانعت شرعی نہیں ہے، کیونکہ جو دوا ٹیکہ کے ذریعہ سے پہنچائی جاتی ہے، اس میں کسی قسم کا نشہ نہیں ہوتا اور نہ بے ہوشی ہوتی ہے، بلکہ اس کے فوری اثر سے طاعون کی سمیت یکلخت دور ہو جاتی ہے اور پھر ٹیکہ لینے والے پر طاعون غالب ان شاء اللہ نہیں ہوتا ہے۔ اور اگر منجملہ ہزارہا آدمیوں کے کسی کے خون میں طاعون کی کچھ سمیت شاید آبھی جائے تو کچھ نقصان نہیں پہنچتا، جس طرح چیچک کا ٹیکہ خاص و عام کے نزدیک زیادہ فائدہ بخش ہے، ویسا ہی یہ ٹیکہ طاعونی ہزارہا اشخاص کی آزمائش میں مفید ثابت ہوا اور ثابت ہوتا جاتا ہے۔

چنانچہ میں نےعرصہ تک اس طاعونی ٹیکے کے لینے والوں اور دیگر وسائل سے تحقیق کیا تو اس کے فوائد پر پورا اطمینان ہوگیا اور کوئی مانع امر شرعیہ نہ پایا۔ لہٰذا اپنے قومی بھائیوں کے شک رفع کرنے کے لیے میں نے خود طاعونی ٹیکہ مروجہ لیا تو بفضلہٖ تعالیٰ میرے تجربے میں بہت فائدہ رساں پایا گیا، اس ٹیکہ سے کسی نوع اور قسم کی طاقت زائل یا کم نہیں ہوتی، نہ کوئی دوسرا مرض پیدا ہوتا، نہ نشہ آتا، نہ کچھ بے ہوشی ہوتی، جس سے کسی وقت کی نماز فوت ہو جائے۔ جب یہ موانع نہیں ہیں تو کوئی قباحت شرعی ٹیکہ لینے میں مانع نہیں۔ دوا کرنے اور علاج کرانے کی کوئی ممانعت حضرت شارعﷺ سے موجودہ حالت میں پائی نہیں جاتی ہے بلکہ حضورﷺ نے خود دوائیں ارشاد فرمائی ہیں اور یہ ٹیکہ دوا ہے۔

۲۔ ٹیکہ لینے سے کفر یا ارتداد عند الشرع واقع نہیں ہوتا اور نہ ٹیکہ لینے والا فاسق و فاجر یا مردود الشہادۃ ہوتا۔ جب یہ حالت ہے تو اس کے ایمان و اسلام میں ذرہ برابر فرق نہیں۔ وہ پختہ مسلمان ہے۔

۳۔ ہر مسلمان بلکہ انسان پر فرض ہے کہ جب قوم یا وہ خود کسی ناگہانی مصیبت و بائیہ بیماری میں پھنس جائے یا مبتلا ہو جانے کا خطرہ و خوف ہو تو ایک دوسرے کی جائز اعانت کرے اور مصیبت وبائیہ کے دفع کے لیے فوراً کوشش کرے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿  وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (المائدة: ۲)

’’ نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو۔‘‘

طاعون یا کسی وبا سے بچنے و بچانے کی کوشش اثم و عدوان میں داخل نہیں ہے، بلکہ مدد کرنے والا عند اللہ ماجور ہوگا، جب کہ جان کو خطرہ سے بچائے گا۔

۴۔ جب کسی مقام میں ظاہر ہو کہ وبا آچلی ہے اور اس کے علامات نمایاں ہو چلے (عام اس سے کہ کوئی مبتلائے مرض ہو یا نہ ہو) اس سے بچنے کے لیے عمدہ سامان تدبیر یہی ہے کہ چندے وہ آبادی چھوڑ دی جائے اور کسی ایسے جنگل یا ہوا دار مقام میں قیام کرے جہاں آبادی نہ ہو اور سمیت وبائیہ بھی اس خطے میں نہ ہو۔ جب اصلی سکن سے وبا جاتی رہے تو واپس آجائے اور جو غربا ایسے نقل مکان کے وقت مفلس ہوں، ان کی حتی المقدور اعانت ہر قسم کی کرے اور ان کی اور اپنی جان بچائے، کیونکہ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے:

﴿  وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَة وَاَحْسِنُوْا اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ﴾ (البقرة: ۱۹۵)

’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘

کسی کا ایسے مہلکہ سے جان بچانا اور امداد کرنا خدا کے محسنین میں داخل ہوتا ہے، جو ہزارہا اموات کا باعث ہو تو شرعاً جائز نہیں ہے۔ جنگل میں آبادی سے باہر چلا جانا خلاف شرع نہیں۔ خدا اور رسول ﷺ نے جان بچانے کی تدبیر کرنے کو منع نہیں فرمایا ہے۔ واللہ أعلم

خادم قوم عبدالعزیز رضوی صمدانی عفی عنہ

ہم کو چاروں جواب کے ساتھ اتفاق ہے، بے شک یہ ٹیکہ دوا ہے، اس کے ساتھ کوئی اعتقاد شرکیہ نہیں ہے۔ پس جس طرح ساری ادویات باذن اللہ تعالیٰ تاثیر پیدا کرتے ہیں، ویسا ہی یہ ٹیکہ بھی اور اس میں کسی قسم کا محذور شرعی نہیں ہے۔ پس ٹیکہ لینے والا بے شک و شبہ مسلمان ہے اور بے شک مدد و اعانت مصیبت زدہ کی کرنا موجب اجر کثیر ہے۔ جو اس کو خطا سمجھے، وہ خاطی ہے۔

اور حدیث صحیح: ’’ الطاعون شھادة لکل مسلم‘‘  ( طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت کی موت ہے) کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے علاج و تدبیر ازالہ کی نہیں کی جائے، کیونکہ ہدم و غرق میں بھی درجہ شہادت کا ملتا ہے۔ پھر بھی رسول اللہﷺ نے اپنی دعا میں: ’’ اللھم إنی أعوذبک من الھدم والغرق وغیر ذلک‘‘  ( اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں غرق اور عمارت گرنے کی موت سے) فرمایا ہے۔ اور جس شہر یا گاؤں میں سمیت وبائیہ آگئی ہو، وہاں سے دوسرے شہر یا گاؤں میں جانے کی ممانعت آئی ہے۔ اسی مصلحت سے کہ دوسری جگہ کے لوگ بھی اس میں مبتلا ہو جائیں گے، باقی رہا اسی شہر یا گاؤں میں رہ کر صرف حفظ کے واسطے آبادی کو چھوڑ کر میدان ہوا دار میں یا جنگل میں جانا یہ داخل فرار نہیں ہے، کیونکہ وہ شخص کسی آبادی میں نہیں گیا ہے، جہاں لوگ آباد ہیں۔ پس اس پر اطلاق فرار کا نہیں ہوا۔ واللہ أعلم (صحیح البخاري ، رقم الحدیث: ۲۶۷۵، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ۱۹۱۶) ۔( سنن أبي داود، رقم الحدیث : ۱۵۵۲، سنن النسائي ، رقم الحدیث ، ۵۵۳۳) 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مجموعہ مقالات، و فتاویٰ

صفحہ نمبر 164

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)