فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15679
(39) عالم شباب میں ارکان اسلام کی پابندی اورگناہوں کا ارتکاب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 11 April 2016 01:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک نوجوان اسلام کے ارکان خمسہ کی تو اس طرح پابندی کرتا ہے جس طرح اللہ تعالی نے حکم دیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بعض گناہوں کا ارتکاب بھی کرتا ہے یعنی اس نے واجبات ومنہیات کو یکجا کررکھا ہے تو اس شخص کے بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک کھلا ہے لہذا ہر کافر اورگناہگار کوچاہئے کہ وہ اللہ تعالی کے حضورخالص توبہ کرلے اوروہ اس طرح کہ ماضی میں جو کفر ومعصیت کا ارتکاب ہوا ،اس پر ندامت کا اظہار کرے۔اللہ تعالی کے خوف اورتعظیم کی وجہ سے اسے فورا ترک کردے اوریہ عزم صادق کر لے کہ آئندہ اس کا ارتکا ب نہیں کرے گا۔جب آدمی اس طرح توبہ کرے تواللہ تعالی تمام سابقہ گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

﴿وَتوبوا إِلَى اللَّهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٣١﴾... سورة النور

‘‘اورمومنو!سب اللہ کے آگے توبہ کروتاکہ فلاح پاو۔’’

نیزفرمایا:

﴿وَإِنّى لَغَفّارٌ‌ لِمَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صـٰلِحًا ثُمَّ اهتَدىٰ ﴿٨٢﴾... سورة طه

‘‘اورجوشخص توبہ کرے اورایمان لائے،عمل نیک کرے،پھر سیدھے راستے پرچلے،اس کو میں ضروربخش دینے والا ہوں۔’’

اورنبی کریم ﷺ نے فرمایا‘‘اسلام پہلے کے تمام گناہوں کو مٹادیتا ہے اوتوبہ بھی پہلے ک تمام گناہوں کو مٹادیتی ہے۔’’مسلمان کے حق میں توبہ کی تکمیل اس طرح ہوتی ہے کہ ظلم سے اگر کسی کا حق چھینا ہے تو اسے واپس لوٹا ئے یااس سے معاف کروائے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا‘‘اگرکسی نے اپنے بھائی کی کوئی چیز ظلم سے حاصل کی  ہو تو اس سے آج ہی معاف کروالےقبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں انسان کے پا س کوئی دینا ریا درہم نہ  ہوگا۔اگراس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کی برائیوں کو اس پر لاد دیا جائے گا۔’’(بخاری)اس مفہوم کی اوربھی بہت سی آیات واحادیث ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص186

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)