فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15665
(25) کثر ت سے اللہ کے نام کی جھوٹی سچی قسمیں کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 11 April 2016 12:58 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میرا ایک قریبی رشتہ داراللہ تعالی کے نام کی کثرت سے جھوٹی سچی قسمیں کھاتا ہے،تواس کا کیا حکم ہے ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اسے نصیحت کی جائے اورکہا جائے کہ تم کثرت سے قسمیں نہ کھایا کروخواہ سچی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ ارشادباری تعالی ہے:

﴿وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ﴾ ... سورة المائدة

‘‘اور(تمہیں)چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔’’

اورنبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالی ان سے نہ کلام فرمائے گا،نہ ان کی طرف روز قیامت دیکھے گا،نہ انہیں پاک کرے گااوران کے لئے دردناک عذاب ہوگا (۱)بوڑھا زانی(۲)متکبر فقیراور(۳)وہ آدمی جسے اللہ تعالی نے مال تو دیا ہے لیکن وہ قسم کھا کر خریدتا اورقسم کھاکر ہی بیچتا ہے۔’’اہل عرب کم قسمیں کھانے والے کی تعریف کرتے تھے جیسا کہ شاعر نے کہا

قليل الا لا يا حافظ ليمنه
اذا صدرت منه الالية برت

‘‘وه قسمیں کم کھانے والا اوراپنی قسم کی حفاظت کرنے والا ہے اورجب اس سے قسم صادر ہوتی ہے تووہ پوری ہوکررہتی ہے۔’’

‘‘الية’’کے معنی قسم کے ہیں ۔مومن کو چاہئے کہ وہ قسمیں کم کھائےخواہ سچا ہی کیوں نہ ہو ،کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کثرت سے قسمیں کھانے کی وجہ سے وہ جھوٹی قسمیں کھانے لگے۔یہ معلوم ہے کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اوراگرجھوٹ کے ساتھ قسم بھی شامل ہو تواس کی حرمت میں اوربھی اضافہ ہوجاتا ہے لیکن اگر ضرورت یا مصلحت راجحہ کی وجہ سے جھوٹی قسم کھانی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں جیسا کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہابنت عقبہ بن ابی معیط سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ‘‘وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے مابین صلح کرادیتا ہے،وہ بہتر بات کہتا ہے اوراچھی بات کی خبر دیتا ہے۔’’ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے نہیں سنا کہ جسے لوگ جھوٹ کہتے ہیں ،اس میں آپؐ نے تین صورتوں کے سوا اورکسی صورت میں اس کی اجازت دی ہو اوروہ تین صورتیں یہ ہیں(۱)لوگوں میں صلح کرانا(۲)جنگ کے موقعہ پر اور(۳)شوہر کی اپنی بیوی سے اوربیوی کی اپنے شوہر سے گفتگو(صیح مسلم)

مثلا لوگوں میں صلح کی خاطر ایک آدمی اگریوں کہے کہ اللہ کی قسم !تمہارے ساتھی صلح کو پسند کرتے اوروہ چاہتے ہیں کہ اتفاق ہو اوراسی طرح دوسروں کے پاس جاکر بھی اسی قسم کی بات کرے اورمقصد نیک اور لوگوں میں صلح کرانا ہو تو اس میں مذکورہ حدیث کے پیش نظر کوئی حرج نہیں ،اسی طرح اگر وہ دیکھے کہ ایک انسان کسی کو ازراہ ظلم قتل کرنا چاہتا ہے یا اس پر کوئی اورظلم ڈھانا چاہتا ہے اوروہ یہ کہہ کر اسے اس ظالم سے بچالے کہ اللہ کی قسم!یہ میرا بھائی ہے جب کہ وہ اسے ناحق قتل کرنا یااسے ناحق مارنا چاہتا ہو اوراسے معلوم ہوکہ اسے اپنا بھائی کہنے سے وہ ظالم اس کے احترام کی وجہ سے اسے چھوڑ دے گا تو اس طرح کی صورت میں اپنے مسلمان بھائی کو ظلم سے بچانے کی مصلحت کے پیش نظر جھوٹی قسم کھانا واجب ہے۔مقصود کلام یہ ہے  کہ جھوٹی قسموں کے بارے میں اصل تویہ ہے کہ اس کی ممانعت ہے اورجھوٹی قسم کھانا حرام ہے لیکن اس میں اگر جھوٹ کی نسبت کوئی بڑی مصلحت ہو جیسا کہ سابقہ حدیث میں مذکور تین صورتیں ہیں تو پھر جھوٹی قسم کھانے کی اجازت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص174

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)