فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15644
(11) خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلے کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2016 11:07 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ان مسلمانوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے،جو خود ساختہ قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس قرآن کریم اورسنت مطہرہ موجود ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس قسم کے لوگوں کے بارے میں جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہلاتے ہیں اورپھر غیر منزل من اللہ سے فیصلے کراتے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی شریعت کافی نہیں ہے اورعصر حاضر میں وہ اس قابل نہیں کہ اس کے مطابق حکم دیاجائے ،میری رائے وہی ہے جو اللہ تعالی نے اپنے حسب ذیل ارشاد میں فرمائی ہے :

﴿فَلا وَرَ‌بِّكَ لا يُؤمِنونَ حَتّىٰ يُحَكِّموكَ فيما شَجَرَ‌ بَينَهُم ثُمَّ لا يَجِدوا فى أَنفُسِهِم حَرَ‌جًا مِمّا قَضَيتَ وَيُسَلِّموا تَسليمًا ﴿٦٥﴾... سورة النساء

‘‘تمہارے پروردگار کی قسم یہ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔’’

نیز فرمایا:

﴿وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِر‌ونَ ﴿٤٤﴾... سورة المائدة

‘‘اورجو اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دےگا توایسے لوگ کافر ہیں۔’’

جو لوگ اللہ تعالی کی شریعت کو چھوڑ کر غیر شریعت سے فیصلہ کراتے ،اسےجائز سمجھتے اورشریعت الہی کی روشنی میں فیصلہ کی نسبت اسے زیادہ بہترسمجھتے ہیں توبلا شک وشبہ وہ دائرہ اسلام سے خارج اورکافر ،ظالم اورفاسق ہیں جیساکہ سابقہ دوآیتوں اوردیگر آیات سے ثابت ہے اورارشاد باری تعالی ہے :

﴿أَفَحُكمَ الجـٰهِلِيَّةِ يَبغونَ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٥٠﴾... سورة المائدة

‘‘کیا یہ زمانہ جاہلیت کے حکم پر خواہش مند ہیں اوروہ جو یقین رکھتے ہیں ان کے لئے اللہ سے اچھا حکم کس کا ہے؟’’

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

مقالات و فتاویٰ

ص118

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)