فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 15474
بینک سے لیا ہوا سود کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 03 April 2016 01:17 PM
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته!

 بینک سے نکلوایا ہوا سود کن لوگوں کو دے سکتے ہیں؟


وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتة!

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!!

سب سے پہلے اس بات کو سمجھیں کہ سودی بینکوں میں اپنے مال کو رکھنا جائز نہیں ہے،خواہ یہ بینک مسلمانوں کے ہوں یا غیر مسلم کےکیوں کہ اس میں گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون ہے،خواہ یہ اموال سود کے بغیر ہی رکھے جائیں لیکن اگر کوئی شخص سود کے بغیر محض حفاظت کے لیے رکھنے پر مجبور ہوتو انشأاللہ اس میں کوئی حرج نہیں کیوں کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

﴿ وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّ‌مَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِ‌ر‌تُم إِلَيهِ... ﴿١١٩... سورةالانعام

’’اورجو جیزیں اس نے تمہارے لیے حرام ٹھہرا دی ہیں وہ ایک ایک کر کے بیان کر دی ہیں مگر اس میں کہ تم اس میں ناچار ہو جاؤ‘‘

سود لینے کی شرط کے ساتھ اگر بینک میں پیسے رکھیں جائیں تو پھر گناہ زیادہ ہو گا۔کیونکہ سود کبیرہ گناہ ہےاور اللہ تعالیٰ نےاسےاپنی کتاب کریم میں بھی اور اپنے رسول ﷺ کی زبانی بھی حرام قرار دیا ہےاور جو شخص سودی لین دین سے باز نہ آئے تو پھر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺسے جنگ کرتا ہے۔ہاں کسی شرط یا معاہدہ کے بغیربینک سوداداکرے تو اس کو لے کراس کو خیراتی سکیمیں یا مساکین اور یتیموں میں خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں،اس سودی رقم میں سے اپنے پاس کچھ نہ رکھےاور نہ ہی اس سے کوئی فائدہ اٹھائےیہ کمائی اگرچہ ناجائز ہےلیکن اس کو لے کر فقیروں میں تقسیم کر دے۔(فتاوی ابن باز)

هذا ما عندی والله اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)