فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 15457
(159)چھ بیٹوں کے حوالہ سے اصلی حقدار...؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 02 April 2016 01:21 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ محمدرمضان کےچھ بیٹے ہیں جس میں سے4اکٹھےاور2جداجداہیں،عرض یہ ہے کہ جوبیٹے الگ ہیں وہ اپنے والدکوگھرسےنکالناچاہتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ گھرہماراہےاس گھرکی جگہ ہماری ہے،اورباپ کوگھرسےزبردستی نکال دیناچاہتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اگرنہیں نکلتے توپھرہمیں اس کی قیمت اداکرو۔

شریعت محمدی کے مطابق اس جگہ کاحقداربیٹاہےیاباپ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہوناچاہیےکہ اس جگہ کامالک باپ ہےجیساکہ حدیث پاک میں ہے :

((أنت ومالك لابيك.)) مسند احمد٢/٢٠٤وسنن ابى داود’كتاب البيوع باب الرجل ياكل من مال ولده’رقم الحديث٣٥٣٠سنن ابن ماجه كتاب التجارات’باماللرجل من مال ولده’رقم:٢٢٩١.

‘‘نبي كريمﷺنےایک آدمی کوفرمایاتھاکہ تواورتیرامال تیرے باپ کی ملکیت ہو۔’’

باپ کےہوتے ہوئے بیٹاکسی بھی چیز کا حقدارنہیں ہےاس لیے اس جگہ کاحقیقی مالک محمدرمضان ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 556

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)