فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 15429
(132)غیرمسلم کو قربانی کا گوشت دینا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 30 March 2016 10:15 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قربانی فرض ہےیاسنت؟نیزقربانی کاگوشت غیرمسلم یا مسلمان بےنمازی کودیاجاسکتاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قربانی سنت ہے یاواجب اس کے متعلق گوعلماء میں اختلاف ہے لیکن دلائل کے لحاظ سےصحیح بات یہی ہے کہ قربانی فرض یاواجب نہیں ہے،البتہ اسے سنت مئوکدہ کہاجاسکتا ہے اورباوجود استطاعت کے ترک کرنا مناسب نہیں اس کےدلائل درج ذیل ہیں۔

(1):......امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں سیدناابن عمررضی اللہ عنہ کاقول تعلیقانقل کیا ہے کہ :

((قال ابن عمررضى الله عنه هى(أى الضحية)سنة ومعروف.))(صحيح بخارى:كتاب الأضاحى)

اس اثرکومشہورمحدث حمادبن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مصنف میں سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ تک موصول سندکےساتھ لایاہےاورامام جبلہ بن  لحیم کے طریق سےروایت کرتے ہیں کہ :

((أن رجلاسأل ابن عمرعن الأضحية أهى واجبة فقال ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون بعده.)) سنن ترمذى:كتاب الأضاحى‘باب الدليل على أن الأضحية سنة‘رقم الحديث:٦ ١٥۰ ۔

‘‘یعنی ایک سائل نے سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سےدریافت کیا کہ کیا اضحی(قربانی)واجب ہے توسیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپﷺنے قربانی کی ہےاورآپ کے بعدمسلمان بھی کرتے آئے ہیں۔’’

اس حدیث کی امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے تحسین کررکھی ہے اورفرماتے ہیں کہ:

((والعمل على هذاعندأهل العلم أن الأضحية ليست واجبة.))

‘‘یعنی اس حدیث پراہل علم عمل کرکےقربانی کوواجب نہیں سمجھتے۔’’

امام ترمذی کی اس عبارت پرحافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ فتح الباری میں لکھتے ہیں:

((وكأنه فهم من كون ابن عمرلم يقل فى الجواب نعم أنه لايقول بالوجوب فإن الفعل المجردلايدل على ذالك وكأنه إشار بقوله والمسلمون إلى أنها ليست منا لخصائص وكان ابن عمرحريصاعلى إتباع أفعال للنبى صلى الله عليه وسلم فذالك لم يصربعدم الواجب.))

‘‘یعنی گویا امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ سیدناابن عمررضی اللہ عنہ کےسوال  کے جواب میں ہاں نہ کہناسےیہ سمجھتے کہ سیدناابن عمررضی اللہ عنہ اس کے وجوب کے قائل نہیں(کیونکہ اگروجوب کے قائل ہوتےتوجب سائل نے پوچاکہ قربانی واجب ہے توآپ فرماتے کہ ہاں(واجب ہے)اورصرف آپﷺکافعل نقل نہ کرتے)اورمجردفعل(جس کے ساتھ امرقولاشامل نہ ہو)وجوب پردلالت نہیں کرتااور سیدناابن عمررضی اللہ عنہ والمسلمون(یعنی آپﷺکےبعدمسلمان بھی قربانی کرتےتھے)کالفظ اس لیےبڑھایاکہ ایسانہ ہوکہ کوئی شخص قربانی کوآپﷺکاہی خاصہ نہ سمجھ بیٹھے)سیدناابن عمررضی اللہ عنہ آپﷺکےافعال اوراسوہ حسنہ کی اتباع کےحریص تھےاس لیے عدم وجوب کےصریح الفاظ بھی ذکرنہ کئےصرف آپ کا فعل ذکرکرکےاشارہ  کردیاکہ یہ واجب نہیں کیونکہ آپ کا فعل مبارک اگرچہ قابل اتباع ہے اوراس کی  پیروی کرنا اجروثواب کاباعث ہے اوراللہ تعالی کے نزدیک یہ بات بہت پسندیدہ اورمحبوب ترین ہے ،تاہم اگروہ فعل امرکے ساتھ نہیں ہے یعنی اس فعل کے متعلق آپ نے امرنہیں فرمایاتووہ فعل واجب نہیں ہوگا۔تقریباتمام مکاتب فکرکے علماءکایہی مسلک ہے کہ محض فعل وجوب پردلالت نہیں کرتا۔

(3):......سیدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ سےابوداودمیں روایت مروی ہے کہ:

((قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان له ذبح يذبحه فإذأهل هلال ذى الحجة فلاياخذن من شعره ولامن اظفاره شيئاحتى يضحى.)) سنن ابى داود،كتاب الضحايا،باب الرجل ياخذمن شعره فى العشروهويريدأن يضحى:رقم الحديث’٢٧٩١.

‘‘یعنی جس کے پاس قربانی کا جانورہواوروہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوتوپھرذوالحج کےچانددیکھنے کے بعداپنے بال نہ کتروائے اورناخن نہ تراشے یہاں تک کہ قربانی کرلےاس کے بعدحجامت بنواسکتا ہے۔’’

اس سےبھی واضح سنن نسائی کےالفاظ ہیں کہ:

((من رأى هلال ذى الحجة فأراد أن يضحى فلايأخذمن شعره ولامن أظفاره حتى يضحى.)) سنن نسائى’ كتاب الضحايا،باب من أراد أن يضحى فلايأخذمن شعره’ رقم الحديث’٤٣٦٦.

اس حدیث میں ہے کہ  ذوالحج کاچانددیکھنے کے بعداگرکسی کاقربانی کرنے کاارادہ ہووہ حجامت نہ بنوائے۔مطلب کہ یہ الفاظ((فأرادأن يضحى))اس حقیقت پرواضح دلیل ہیں کہ قربانی کرنے والے کے ارادہ پرمبنی ہے اورجس کا م کا یہ حال ہو(یعنی وہ مسلم کے ارادہ پرمنحصرہو)وہ فرض یاواجب نہیں ہودسکتا،کیونکہ فرض یا واجب میں اس کام کرنےوالے کےارادہ پرمنحصرنہیں ہوتاکہ اس کی مرضی کرےیانہ کرےبلکہ وہ کام ہرحال کرنے کالازم ہوتا ہے چاہے وہ اسےپسندکرےیانہ کرے۔

باقی قربانی کرنے والے کو حکم ہے کہ وہ قربانی سےپہلے حجامت نہ بنوائے سویہ تعجب کی بات نہیں مثلانفلی نمازفرض یاواجب نہیں ہے مگراگرکوئی پڑھتا ہے تواسےکچھ باتوں کا ضرورخیال رکھنا ہےاوران پرلازمی طورپرعمل کرنا ہے۔مثلاوضو،قراۃ،رکوع،سجودوغیرہایعنی نفلی نمازفی نفسہ فرض یاواجب نہیں مگرجوپڑھتا ہے تواس پر یہ تمام کام کرنا ہیں ورنہ ان میں سےکوئی کام ترک کرےگاتواس کی نماز نہیں ہوگی۔

اسی طرح نفلی روزے کےمتعلق بھی کہا جاسکتاہے کہ نفلی روزہ واجب نہیں مگرجورکھے گا

اس پرتمام پابندیوں کاخیال رکھنا ضروری ہےجوفرضی روزہ میں ہوتی ہیں۔علی ہذاالقیاس بعینہ قربانی کامعاملہ بھی ہے یعنی گوقربانی فی نفسہ نہیں مگرجوشخص کرےگاتواس پریہ پابندی ضرور لاگوہوگی کہ وہ ذوالحج کےچانددیکھنے کے بعدقربانی کاجانورذبح کرنےتک حجامت نہ بنوائے زیادہ سےزیادہ قربانی کے وجوب وفرضیت پرجودلیل پیش کی جاتی ہے وہ حدیث ہےجوسنن ابن ماجہ،ابواب الاضاحي باب الاح‎ضاحي واجبة هي ام لا’رقم الحديث ’١٣٢٣میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ رسول اکرمﷺنے فرمایا:

((من كان له سعة ولم يضح فلايقربن مصلانا.))

‘‘یعنی جسے وسعت ہوپھربھی قربانی نہ کرےتووہ ہماری عیدگاہ کےقریب بھی نہ آئے۔’’

لیکن اول تواس حدیث کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے اورصحیح بات یہ ہےکہ یہ حدیث موقوف ہے نہ کہ مرفوع جیساکہ حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں لکھاہےاورحجت مرفوع حدیث میں ہے ن کہ موقوف میں دوسرایہ کہ اگراسےمرفوع تسلیم ہی کرلیاجائے توبھی یہ حدیث وجوب پرصراحتا دلالت نہیں کرتی بلکہ اس سے صرف اس کی تاکیدمعلوم ہوتی ہے۔

جیسا کہ پیاز وغیرہ کے متعلق آپﷺکاارشادگرامی ہے کہ پیاز(کچا)کہاکرمسجدمیں نہ آئیں بلکہ صحیح حدیث میں ہے کہ آپﷺجوپیازوغیرہ بدبودارشےکھاکرمسجدمیں آتاتھاآپﷺاسےبقیع(مقام)تک دورمسجد سےنکلوادیتے تھے محض تنبیہ کی خاطر۔

حالانکہ تمام علماء کااس بات پر اتفاق ہے کہ اس سے پیاز کی حرمت ثابت نہیں ہوتی یعنی پیاز کھاناحرام نہیں کیونکہ دیگردلائل سےاس کی  معلوم ہوتی ہے اورحکم محض تنبیہ وتاکیدکے لیے تھااس طرح حدیث سےبھی(اگراس کا مرفوع ہونا ثابت ہوتو)صرف قربانی کاموکدہوناثابت ہوتا ہے لاغیر۔

اسی طرح مشہورمحدث حافظ ابن حزم ظاہری فرماتے ہیں  کہ :

((لايصح عن أحدمن الصحابة إنهاواجبة وصح إنهاليست واجبة عن الجمهور.)) المحلى’جلد٦’صفحہ ١٠’كتاب الاضاحى’مسئله:٩٩٣.

یعنی کسی ایک صحابی رضی اللہ عنہ سےثابت نہیں اوریہ بات جمہورعلماء سےمنقول ہے۔’’

باقی جس شخص نے نماز سےپہلے قربانی کردی تھی اورآپﷺنے اسے دوبارہ  قربانی کرنے کاحکم فرمایا،اس سےبھی قربانی کے وجوب پراستدلال نہیں کیا جاسکتا اس لیےکہ اس بات  میں کوئی عجب ونکارت نہیں کہ دین میں کوئی ایسا کام ہوجوفی نفسہ نہ ہولیکن اس کابدل یا عوض اورضروری ہو،کیونکہ جوقربانی کے وجوب کے قائل ہیں۔(مثلا علماء احناف)وہ اس بات پر متفق ہیں کہ مثلاکسی شخص نے کسی ایسے دن نفلی روزہ رکھا جس دن کا روزہ اس پرنہ تھامگراس نے عمدا(جان بوجھ کر)روزہ توڑڈالاتویہی علماء کہتے ہیں کہ اب اس پردوسرے دن کا روزہ اس پر واجب ہے حالانکہ پہلا روزہ جواس نے رکھا تھا وہ اس پر نہ تھا بلکہ نفلی تھااورکہتے ہیں کہ کسی نے نفلی حج کا احرام باندھاپھراسےفاسدکردیاتواس پر حج کی قضاء ہے ۔حالانکہ وہ حج اس پر نہیں تھا بلکہ نفلی تھا۔اس طرح قربانی بھی اگرچہ ابتدانہیں مگرصحیح طورپرادانہ کرنے کے سبب(مثلانمازسےپہلے قربانی کردے)شارع علیہ السلام نے اس پر اس کااعادہ لازمی قراردیا ہے مسلمان کا کام ہے کہ اللہ تعالی اوراس کے رسولﷺکے حکم کےسامنے سراطاعت وتسلیم خم کرےپھرجہاں حکم ہوگاوہاں چوں چراں بھی نہ کی جائے گی۔

وہ حکم لازمی ماناجائے گااورجہاں حکم نہیں ہوگااورمحض فعل مبارک ہوگاتووہاں سنتاواستحباباپیروی اتباع کی جائے گی لیکن تصورنہ کیاجائے گا۔باقی رہی ام بلال الاسلمیہ والی حدیث جوابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے ان الفظ کے ساتھ نقل کی ہے کہ:

((قالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحوأبالجذع من الظأن فإنه جائز.))

‘‘یعنی رسول اکرمﷺنےفرمایاکہ دنبے میں سےجذعہ کی قربانی کروبلاشبہ یہ جائزہے۔’’

یہ امرحقیقت میں فرضی نہیں بلکہ یہ آپ کی طرف سےرخصت ہے جس پردلیل دوسری صحیح حدیث ہے جس کے الفاظ اس طرح ہیں:

((لاتذبحوااإلامسنةإلاأن يعسرعليكم فتذبحواجذعة من الضأن.)) صحيح مسلم:كتاب الاضاحى’باب من الأضحية:رقم الحديث: ٥٠٨٢.

‘‘یعنی قربانی کے جانوروں میں سے مسنہ(دودانتوں والے جانور)کے علاوہ دوسرے جانورکی  قربانی مت کرومگرجب مسنہ نہ ملےتوپھرایک دنبہ ذبح کردوجوجذعہ ہویعنی دوندہ نہ بلکہ آٹھ نوماہ کا ہو۔’’

اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ام بلال رضی اللہ عنہاوالی حدیث میں بھی امرمحض رخصت کےلیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے ورنہ اگراس وجوب پرعمل کروگے تواس کا مفہوم یہ بنے گاکہ قربانی کے لیے صرف دنبوں کاجذعہ ہی ذبح کیا جائے ۔دوسرانہیں حالانکہ یہ قطعا غلط ہے۔

ان کے علاوہ بھی کچھ احادیث مروی ہیں مگران میں سے کوئی بھی سنداصحیح نہیں مگرصرف ایک حدیث جو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:

((أنه صلى الله عليه وسلم قال من وجدسعة فليضح.))

‘‘یعنی آپﷺنےفرمایاجسےگنجائش ہووہ قربانی کرے۔’’

یہ حدیث اگرچہ مذکورہ بالابیان کی گئی احادیث کے ہم پلہ نہیں ،تاہم اس کے روات ثقہ ہیں مگراس میں بھی امراستحبابی ہے کیونکہ اس طرح ہی دیگر دلائل کے ساتھ جن میں کچھ ذکرکئےگئے ہیں اس روایت کو جمع کیاجاسکتا ہے ورنہ دوسری صورت میں جمع نہیں ہوسکتا،اس کے بعدترجیح کی طرف رجوع کیاجائے گاتولامحالہ یہی احادیث جن سے معلوم ہوتا ہےکہ قربانی واجب نہیں اس حدیث پرراجح ہوں گی کیونکہ یہ واضح ہیں اوراپنے مطلب پرواضح ہیں اورحدیث مرجوح ہوگی۔

باقی رہی یہ بات کہ قربانی کا گوشت غیرمسلم کودیا جاسکتا ہے یا نہیں تواس کےلیےگزارش ہے کہ اس گوشت سےبےشک کافروں کودیاجاسکتا ہے اس کی دلیل درج ذیل ہے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح:(كتاب الاضحى باب مايوكل من لحوم الاضاحى ومايتزودمنها:رقم الحديث:٥٥٦٩)میں سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سےروایت کرتے ہیں کہ :

((قال النبى صلى الله عليه وسلم من ضحى منكم فلايصبحن  بعدثالثة وبقى فى بته منه شى فلماكان العام المقبل قالوايارسول الله صلى الله عليه وسلم نفعل كمافعلناالعام الماضى قال كلواواطعمواوأدخروفإن  ذالك العام كان بالناس جهدفأردت أن تعينوافيها.))

‘‘یعنی آپﷺنےفرمایاکہ تم میں سےجوبھی قربانی کرےتوتین دنوں کےبعداس قربانی کے گوشت میں سےکچھ اس کےگھرمیں باقی نہیں رہنا چاہئےپھرجب دوسراسال  آیاتوصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نےعرض کیااس سال بھی ویسے ہی کریں(جس طرح گزشتہ سال کیا تھا)آپﷺنے فرمایاکہ کھائیں اورکھلائیں(مطلق عام انسانوں کو)اورذخیرہ کرکےرکھو(گزشتہ سال جومیں نے منع کیاتھا اس کی وجہ یہ تھی کہ)اس سال لوگوں کوبہت تکلیف تھی یعنی قحط سالی تھی اورجوبھوک کی وجہ سے بڑی پریشانی درپیش تھی اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ تم ان کی مددکرواس لیےجس نےمنع کیاتھا۔’’

اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاسےروایت ہےکہ  :

((إنهم قالوايارسول الله صلى الله عليه وسلم أن الناس يتخذون الأسقية من ضحاياهم ويجمعون فيهاالودك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وماذالك قالوانهيت أن توكل لحوم الضحايابعدثلاث قال عليه الصلاة والسلام نهيتكم من أجل الدافة التى دفت فكلواوادخروأوتصدقوا.))صحيح مسلم:كتاب الأضاحى’رقم الحديث:نمبرمٹاہواہے.

ان  احادیث سے معلوم ہواکہ آپﷺنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کوقربانی کےگوشت سےدوسرے لوگوں کوکھلانے کاحکم فرمایااس لیےجائز ہے کہ ہرکوئی کھانے والااس سےکھاسکتا ہےکیونکہ اگراس سےکسی کےلیے کھاناحرام ہوتاتووہ آپ ذکرکرتے۔اسی طرح ایک دوسری حدیث میں بھی(تصدقوا)کالفظ واردہواہےیعنی اس سےصدقہ وخیرات کرواورمطلق خیرات(یعنی فرضی صدقات کے علاوہ)کسی کوبھی دی جاسکتی ہے خواہ وہ مسلم ہویاکافرچونکہ یہان بھی آپﷺنےاس گوشت سےمطلق خیرات کاامرفرمایاہے،لہذاکسی کوبھی خیرات کے طورپردیاجاسکتا ہے خواہ وہ مسلم ہویاغیرمسلم کیونکہ یہ بیان کا موقعہ تھااگریہ طعام مسلمانوں کے ساتھ مخصوص تھا توآپ خوداس کی وضاحت فرمادیتے۔

مطلق اورعام حکم نہ فرماتے:

((وماکان ربك نسيا.))اورقربانی بھی نہیں جیساکہ اوپرثابت کرآئے ہیں اسی طرح اللہ تعالی کافرمان ہے:

﴿فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ‌﴾ (الحج:٣٦)

اس آیت میں بھی قربانی اورہدی کاگوشت میں سے خود کھانااورحاجتمندکوکھلانے کاحکم ہےاورحاجتمنداورسوالی کومخصوص نہیں کیاگیا کہ وہ صرف مسلم ہی ہومذکورہ بالااحادیث سے حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مسلم اورغیرمسلم کوقربانی کاگوشت دینے کے جواز پراستدلال کیا ہے ۔واللہ اعلم۔اورمزیدپہلی حدیث میں جوآپ نے فرمایاہےکہ:

((من ضحى منكم.))کےالفاظ بتاتے ہیں کہ یہ حکم اس کے ساتھ لاگونہیں ہے جوقربانی نہ کرے۔مطلب یہ ہواکہ قربانی واجب نہیں جوچاہے کرےاورجوچاہے نہ کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 499

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)