فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 15391
(95)ولیمہ
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 28 March 2016 10:42 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ولیمہ جماع سے قبل ہے یابعد؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ولیمہ قبل الدخول اوربعدالدخول دونوں طرح نبیﷺکے فعل سےثابت ہے،جوقبل الدخول ہے اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ جس میں ہے کہ نبیﷺنے جب زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا توآپ نے اپنے صحابہ کوگوشت اورروٹی کا ولیمہ کھلایا۔انہیں اپنے گھربلایاکھاناکھلایا،پھروہ لوگ آپ کے گھرہی میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگے۔آپﷺگھرسےباہرچلےگئے،جب واپس آئے تولوگ بیٹھے تھے،آپ واپس چلےگئےپھرآئے توابھی لوگ بیٹھ تھےآپ پھرواپس چلے گئےاورایسادویاتین بارہوااورآپﷺانہیں کہہ بھی نہیں سکتے تھے کہ تم چلے جاو۔حضرت  انس رضی اللہ عنہ فرماتےہیں کہ جب وہ چلےگئےتومیں نے آپ کوان کے جانے کی اطلاع دی ۔اس وقت تک آیۃ الحجاب جوسورۃ الاحزاب میں ہے نازل ہوچکی تھی،آپ اپنے اہل پرداخل ہوگئےاورمیرےاوراپنے درمیان پردہ گرادیاتواس سےپتہ چلتا ہے کہ یہ ولیمہ قبل الدخول تھا۔

اورجوبعدالدخول ولیمہ کا مسئلہ ہے تواس کی دلیل جنگ خیبرمیں حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سےنکاح کا واقعہ ہے کہ جس میں کہ وضاحت ہے کہ پہلے آپ اپنے اہل پرداخل ہوئے اورپھرگھی،ستواورکھجورکاولیمہ کیا۔

تواس دلیل سےبعدالدخول ولیمہ ثابت ہوتا ہے ،بحرحال اس میں وسعت ہے جب انسان کوسہولت ہوتب وہ ولیمہ کرلےقبل الدخول ،بعدالدخول کی کوئی شرط نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 436

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)