فتاویٰ جات: معاملات
فتویٰ نمبر : 15387
(91)پواء کا حکم
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 28 March 2016 10:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شادی کے موقعہ پررشتہ داریادوست احباب لڑکے یالڑکی والوں کو تحفہ تحائف دیتے ہیں کیا یہ  شریعت میں جائز ہے اوراگرکوئی رقم دیتا ہے تووہ لینایادینا شریعت میں اس کا حکم واضح کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال سے بالکل ظاہرہےکہ مسئلہ ہدیہ کے باب سے ہےجس کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہوناچاہئےکیونکہ شریعت  میں ہدیہ دینے کی ترغیب آئی ہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جناب کریمﷺکواورایک دوسرے کوہدیہ دیتے تھے ۔لہذااس میں کوئی بھی قباحت نہیں ہونی چاہئے۔

یہ سوال  نہیں ہوتا کہ خاص شادی کے موقعہ پر ہدیہ دینا کیسا ہےکیونکہ کہ ہدیہ کے مطلق ترغیب آئی ہے لہذاہمارےلیے کوئی بھی سبب نہیں ہے کہ شادی کے موقعہ پراس کو خارج کردیں بلکہ یہ موقع یا ہدایاوتحائف کے دوسرے مواقع وہ سب اس میں شامل ہیں اوراس لینےدینے کا ہدایہ ہونا اس سے واضح ہے کہ یہ مقررنہیں ہے بلکہ آئے ہوئے احباب اپنی خوشی سےمرضی کے مطابق دیتے ہیں اگرکوئی نہیں دیتاتواس پر کوئی معیارنہیں ہے۔

کہ اس کو ولیمہ سے باہرنکالاجائے بہرحال اس لینے دینے پرہدیہ کی  معنی بالکل صادق آتی ہے ،لہذاشادی کے موقع پر اس کو الگ کرنے والوں کو کوئی ایسی دلیل پیش کرنی چاہئے جواس موقع پر اس کو عمومی حکم سے الگ کرے۔علاوہ ازیں اس عمومی حکم کے علاوہ خاص موقع پرہدیہ بھیجنے کی دلیل یہ ہے جودرج ذیل ذکرکی جاتی ہے۔

امام محدثین امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح کتاب النکاح میں یہ باب باندھاہے۔‘‘باب الهدية العروس’’اس میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سےحدیث نقل کرتے ہیں کہ

‘‘آپﷺنے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سےشادی کی پھراس کے ولیمہ کے موقع پرحضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی طرف حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدیہ(جس میں ایک طعام جوکہ پنیرگھی اورکھجورکے ساتھ بنایاجاتاتھا)کےطوربھیجا۔’’(الحدیث)

اس سے خصوصی طورپرمعلوم ہوا کہ شادی کے موقع پر  بوقت ولیمہ شادی کرنے والے کوہدیہ دیاجاسکتا ہے ،پھرجوچاہے پیسےدےیاکھانے کی چیز دےیہی سبب ہے کہ امام محدثین جیسے محقق اورمرقق نے بھی اس پر باب الهدية العروس’’باندھاہےفتدبر۔

بلکہ اس مسئلہ کے متعلق اتنا بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگرکوئی خوددےتویہ بطیریق اولی جائز ہے۔

لیکن ایسے موقع پر احباب سےزبردستی مددلینابھی درست ہے جس طرح نبیﷺنے جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاسےنکاح کیااس کے ولیمہ کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سےحکم فرمایاکہ(جیساکہ حدیث کے فقروں میں موجود ہے)جوکچھ بھی ہووہ لےآو۔پھرکوئی کھجوریں لےآیاتوکوئی پنیروغیرہ پھر ان کو ملاکرحیس بناکریہ ولیمہ کیا اگردوست احباب اپنی رضا خوشی سے لینے دینے میں مددکریں گے توآخراس میں کون سی قباحت ہے اورمنع کاکیاسبب ہے۔

بہرحال ایسے موقعوں پرجواحباب واقراب دیتے ہیں وہ جائز وحلال بلکہ مندوب ومستحب ہے کیونکہ یہ آپﷺسےثابت ہے ۔(کمامرانفا)

باقی منع کرنے والوں کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں ہے ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 432

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)