فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15341
(45)رکوع کی رکعت
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 23 March 2016 01:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کوئی آدمی نمازمیں اس وقت شامل ہوتا ہے جب امام رکوع میں جاچکا ہوتا ہے تو اب اس مقتدی کے رکوع میں آنے سے وہ رکعت ہوئی یا نہیں؟جماعت غرباءاہلحدیث والے اس بات پرزوردے رہے ہیں کہ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہوجاتی ہے اس طرح دوسرے علماء اہل حدیث بھی مثلا مولانامحمد جوناگڑھی،مولانامحمدبن عبداللہ غزنوی رحمہم اللہ قائل ہیں لہذاتحقیق مطلوب ہے کہ اس مسئلہ میں اصل تحقیق کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہئے کہ اس مسئلہ میں سلف سےلےکرخلف تک اختلاف رہا ہے مگراس مسئلہ میں صحیح بات جس میں کوئی غبارنہیں اورجس کی تردیدکاکوئی خوف وخطر نہیں وہ یہ ہے کہ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت نہ ہوئی،یعنی وہ رکعت دوبارہ پڑھنی پڑے گی اس سے پہلے کہ میں اس مسئلہ کے بارے میں تحقیق پیش کروں عرض کرنامناسب سمجھتا ہوں کہ کسی بھی بات یا مسئلہ کے حق سمجھنے کا معیارصرف دلیل ہی ہے جوکتاب اللہ وسنت رسولﷺسے معلوم ہوحق کو شخصیتوں سےیا مخصوص لوگوں سے نہیں سمجھاجاتایعنی یہ بات صحیح نہیں کہ چونکہ اس مسئلہ میں ایسے علماء کی یہ رائے ہے یا وہ اس پرعامل ہیں اس لیے بس یہ مسئلہ ایساہی ہے کیونکہ یہ قصہ ہی الٹا ہوا۔

یعنی حق کو شخصیتوں سے دیکھاجاتاہے،حالانکہ اصل بات اس طرح ہے  کہ خودشخصیتوں کو حق سے دیکھا جائے یعنی جوبات قرآن وسنت سے معلوم ہواس کے ایسی شخصیتوں کوپرکھاجائےکہ ان کا قول وفعل حق سے موافق ہے توان کا عمل صحیح ہے ورنہ غلط اورردوباطل ہے لہذایہ کہنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا کہ علامہ شوکانی نے یہ فتوی لکھا ہے یا فلاں فلاں علماء اس کے قائل ہیں کیونکہ یہ علماء(مثلا)رکوع میں شامل ہونے سے رکعت ہونے کے قائل ہیں تودوسری طرف اس سے بڑے علماء ہیں۔

امام محدثین امام بخاری حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی اوردوسرے صحابہ اورشیخ الکل سیدنذیر حسین غیرہم بلکہ امام بخاری نے اپنے رسالے جزء القراۃ میں نقل کیا ہے کہ جو بھی علماءمقتدی کو الحمد پڑھنے کا حکم دیتے ہیں اوراس پر قراۃ فرض جانتے ہیں ان سب کا مسلک یہ ہے کہ رکوع میں شامل ہونے والا اپنی رکعت دوہرائے گااب دیکھیں آپ نے جس کےلکھے ہیں ان سب کا شیخ سیدنذیرحسین ہے ان کا مسلک بھی یہی ہے کہ مدرک رکوع مدرک رکعت نہیں ہے بلکہ صرف ایک امیرالمومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا نام ہی اس کے لیے کافی ہےکہ صحیح مسلک کونسا ہے۔

یعنی اگرحق یہ ہے کہ ا س پر بڑے علماء عامل ہوں توظاہر ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سارےمحدثین کے سرتاج ہیں۔لہذااس کامسلک سب سے معتبرہوناچاہئےلیکن میں نے عرض کیاکہ اصل یہ بات ہی صحیح نہیں ہے ۔ایک مسئلے میں اگرامام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جیسا آدمی کسی ایک بات کو صحیح سمجھتا ہومگرہم کو کتاب وسنت سے معلوم ہوجائے کہ ان کی بات صحیح نہیں ہے توہم ان کے مقلد نہیں ہیں ،اس لیے اس کو چھوڑنا پڑے گااورتابعداری حق کی کرنی ہوگی۔یعنی کتاب وسنت کی نہ کہ کسی خاص فردکی۔

بہرحال اس بیان سے آپ کو معلوم ہوچکا ہوگا کہ اگرغرباء اہلحدیث والے یا دوسرےعلماء کرام اس بات کے قائل ہیں کہ رکوع میں شامل ہونے سے رکعت وہ ہوجاتی ہے تواس کامطلب ہرگزیہ نہیں کہ یہی بات واقعی اورفی نفس الامرصحیح ہے۔بلکہ ہم کو براہ راست کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنا ہے اوردیکھنا ہے کہ ہمیں   وہاں سےکیارہنمائی ملتی ہے پھر جیسے ان دونون چشموں سے ہمیں معلومات ملے ہم ان کو حق سمجھیں دوسری بات چھوڑ دیں پھرچاہےکسی کی بھی ہو۔

اس کے بعد میں پہلے وہ دلیل ذکر کرتا ہوں جس کو رکوع میں رکعت ہونے کے قائل پیش کرتے  ہیں اوراس پر کلام کرنے کے بعد پھر صحیح مسلک کے دلائل پیش کیے جائیں گے۔

وماتوفيقي الابالله!

دليل اول:......ابوداودكی سنن میں یہ حدیث ا س سند سے منقول ہے:

((حدثنامحمدبن سليمان عن زيدبن ابى العتاب وابن المقبرى عن ابى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اذاجئتم الى الصلاة ونحن سجودفاسجدواولاتعدوهاشيئامن ادرك ركعة فقدادرك الصلاة.))

‘‘مطلب اس حدیث کا یہ خلاصہ ہےکہ جب نمازکی طرف آواورہم سجدے کی  حالت میں ہوں توتم بھی سجدے میں شامل ہوجاومگران کو شمارنہ کرنایعنی اس لیےتمہیں رکعت نہیں ملی اورجورکعت میں پہنچ گیا وہ نماز میں پہنچ گیا۔’’

رکوع کی رکعت کے قائل حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو رکعت کا لفظ ہےاس سے مراد رکوع ہے،لہذامطلب یہ ہوا کہ جورکوع مین حاضر ہوا وہ نماز میں یعنی پوری رکعت میں حاضر ہوگیا ۔یہ ہے ان کی دلیل کاخلاصہ اب ہمارے کلام کو انصاف سے سننا۔

(حدیث کی سند)اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابی سلیمان ہے اس کے متعلق امام محدثین امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں(جزءالقراةمیں)‘‘ويحيي هذامنكرالحديث’’یعنی اس سند میں جو راوی یحیی ہے وہ منکرالحدیث ہے۔اصول حدیث کے ماہراس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ امام بخاری کا کسی راوی کے بارے میں منکرالحدیث کے الفاظ استعمال کرنااس کا اطلاق شدیدجرح کی تقاضا کرتا ہے۔

اس کے علاوہ امام بخاری آگے فرماتے ہیں کہ:

((لم يتبين سماعه عن زيدولامن ابن المقبرى ولاتقوم به الحجة.))

یعنی اس راوی‘‘یحیی کا زید اورابن مقبری(سعید بن ابی السعید مقبری)سےسماع بھی واضح نہیں ہے۔(اس لیے کہ یحیی حدثنا کے الفاظ نہیں کہتا بلکہ عن کا لفظ استعمال کرتا ہے جوسماع کے لیے مضبوط لفظ نہیں ہے بلکہ محتمل ہے)اوراس راوی سے دلیل اورحجت نہیں لی جاسکتی،یعنی یہ راوی حجت لینے کے قابل نہیں ہے۔

اورامام بیہقی کتاب  المعرفۃ میں فرماتے ہیں کہ‘‘تفردبه يحيي بن ابي سليمان هذاوليس بالقوي’’یعنی یہ الفاظ اس حدیث میں صرف یحیی نے نقل کیے ہیں اوروہ قوی راوی نہیں ہے اس طرح تہذیب التہذیب میں حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ اورمیزان الاعتدال میں حافظ ذہبی نے نقل کیا ہے کہ حافظ ابوحاتم فرماتے ہیں کہ ‘‘يكتب حديثه وليس بالقوي’’یعنی اس راوی(یحیی)کی روایتیں لکھی توجاسکتی ہیں مگریہ قوی راوی نہیں ہے۔

مطلب کہ یہ راوی ضعیف ہے اس طرح حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ تقریب التہذیب میں فرماتے ہیں  کہ‘‘لین الحدیث’’یعنی حدیث کا یہ راوی کمزورہے۔البتہ ابن حبان اورحاکم اس کی توثیق کرتے ہیں مگراول یہ کہ ابن حبان اورحاکم کا تساہل مشہورہےمگران کے ہوتے بھی جب ان کی توثیق کے مقابلے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے منکر الحدیث کے الفاظ موجود ہیں جس طرح اصول حدیث کے ماہرکومعلوم ہے کہ یہ الفاظ جرح مفسرہیں اورجرح شدید ہیں اس لیے اس جگہ جرح کو تعدیل پر مقدم کیا جائے گا‘‘كماتقررفي اصول الحديث’’لہذایہ راوی ضعیف ہواجب اس حدیث کی سند میں ایک راوی ضعیف ہے تویہ حدیث صحیح کیسےہوگی جب حدیث ہی صحیح نہ رہی تواس سے اس مسئلے پر دلیل کیسے لی جائے گی۔

دوسری دليل:......دارقطنی کی سنن میں ان الفاظ سے مرفوع حدیث آئی ہے کہ : ((من ادرك ركعة من الصلاة فقدادركهاقبل ان يقيم الامام صلبه.))

یعنی جو نماز میں امام کی پیٹھ سیدھی کرنے سے پہلے رکوع میں پہنچ گیا تووہ نماز میں پہنچ گیایعنی رکعت ہوگئی۔’’

اس حدیث کی سند میں ایک راوی یحیی بن حمیدہے جس کے بارے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ‘‘لايتابع في حديثه’’یعنی یہ راوی ایسی احادیث لاتا ہے جن کی متابعت نہیں ہوتی اورخودامام دارقطنی نے بھی اس راوی کی تضعیف کی ہے اس طرح اس کی سند میں دوسراراوی قرۃ بن عبدالرحمن ہے اس کے بارے میں  جوزجانی فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے سنا کہ یہ راوی‘‘منکرالحدیث جدا’’یعنی سخت منکر الحدیث  ہےاوریحیی بن معین نےفرمایا کہ ‘‘ضعیف الحدیث ’’یعنی یہ راوی حدیث میں ضعیف ہے۔اورابوحاتم فرماتے ہیں کہ‘‘ليس بالقوي’’یعنی یہ راوی قوی نہیں ہے۔(كما في التعليق المغني علي الدارقطني)جب اس حدیث کی سند میں دوراوی ضعیف ہیں تویہ حدیث حجت لینے کےقابل کیسے ہوگی۔

(متن الحدیث الاول)اب پھرپہلی حدیث کے متن پر غورکریں کہ اس میں الفاظ یہ ہیں کہ جورکعت میں پہنچاوہ نماز میں پہنچ گیا اوررکعت کے لفظ کی حقیقی معنی پوری رکعت ہےصرف رکوع ان کی مجازی معنی ہے اورمجازی معنی پر عمل تب ہی کیا جاسکتا ہے جب حقیقی معنی  وہاں نہ بن سکے اورکوئی قرینہ ہو جو حقیقی معنی کو بدلنے متقاضی ہو۔

مگریہاں ایسا نہیں کیونکہ یہاں حقیقی معنی بھی درست ہوسکتاہے،پھر اس کی مجازی معنی کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے یعنی اس قطعہ کا مطلب یہ ہوا کہ باجماعت نماز مکمل  ثواب  وہ حاصل کرسکتا ہے جو کم ازکم پوری ایک رکعت میں پہنچ جائے جیسا کہ دوسری احادیث  اس طرح کی آتی ہیں جن میں صراحتا رکعت کا ہی بیان ہے یعنی پوری رکعت ملنے سے نماز مل گئی باقی سجدہ وغیرہ کے ملنے سے رکعت نہیں ہوگی اورنہ ہی پوری نماز باجماعت کو پہنچ سکے گا۔

اب بتایاجائے کہ آخر اس معنی میں کون سی خرابی ہے جو خوامخواہ لفظ کو اپنی حقیقی معنی سےنکال کرمجازی معنی پر محمول کیا جاتا ہے ؟اوریہ حقیقت ہے کہ جوبات یا امریا حقیقت طےشدہ ہو ان کو محض احتمالات سے گرایانہیں جاسکتا اوریہ بات بھی اہل علم سے مخفی نہ ہوگی کہ((اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال.))یعنی احتمال آگیاتودلیل لیناباطل ہوجائے گا۔

مطلب کہ جب نماز میں قیام (کھڑاہونا)اورالحمدکاپڑھنا(اہلحدیث کے پاس)فرض ہےاورنمازکارکن ہے اوریہ بات ایک طےشدہ اورفیصل حقیقت ہے توان فرائض کو اس حدیث سےکیسے گرایاجاتا ہے؟اورگرانابھی ایسی حدیث سے جس کی سند بھی صیح نہیں اورمتن میں ایک دوسرااحتمال ہے(یعنی حقیقی معنی پر حمل)جس سبب کے بناءپریہ حدیث اپنےمفروضے اوردعوی کی ہوئی معنی میں بھی نص نہ رہی(بلکہ خودحقیقی معنی والااحتمال اوربھی زیادہ قوی ہے جیسا کہ پہلے عرض کرچکاہوں۔)توپھراس محتمل عبارت سے ایک بھی نہیں دوفرضوں کو گرایاجاتا ہےیہ بے انصافی ہے ایک فرض اوررکن کو ساقط کرنے کے لیے دلیل بھی ایسی ہی مضبوط اورنصا ہونہ کہ ایک محتمل عبارت کا حامل اوروہ بھی ایسے احتمال کا حامل جو کافی بعیداحتمال ہے۔(کیونکہ مجازی معنی کا حامل ہے)اوراس طرح کا طرز عمل قواعدعلمیہ کے خلاف ہے اگراس طرح عام راستے نکالیں گے توپھرہرکوئی کسی نہ کسی محتمل عبارت سےدلیل لے کراللہ کے فرائض سے جان چھڑالے گا۔پھرفرائض کی کیا اہمیت رہی بہرحال حدیث سند کےاعتبارسے توقابل حجت نہیں ہے مگرمتن بھی مزعوعہ پرقطعی دلیل یانص نہیں ہے۔

تیسری دليل:......حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث پیش کی جاتی ہے اس حدیث کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول اکرمﷺرکوع میں تھے تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آئے توآتےہی صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کیا پھر آگے بڑھے(رکوع کی حالت میں ہی)اورجاکرصف میں شامل ہوئے سلام کے بعد آپﷺنے پوچھاکہ یہ کس نے کیا ہے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کے رسول میں نے ۔آپﷺنے فرمایآپ کے حرص کو(دینی کاموں میں)بڑھائے پھرایسے نہ کرنا۔ان حضرات کا کہنا ہے کہ یہ صحابی رکوع میں شامل ہواپھرآپﷺنے اس کو اس رکعات لوٹانے کا حکم نہ دیا کہا جائےگا وہ رکعت ہوگئی۔

یہ حدیث اگرچہ صحیح ہے اوربخاری میں موجود ہے لیکن اس میں ان کے دعوی کا ثبوت ملنامشکل ہے۔کیونکہ جس طرح اس حدیث میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ آپﷺنےان کو اس رکعت کے دہرانے کا حکم دیا اس طرح اس حدیث میں یہ بھی بیان نہیں ہے کہ اس صحابی نے اس کو رکعت کو نہیں دہریامطلب کہ دونوں ہیں توجس طرح یہ احتمال ہوسکتاہے کہ اس نے رکعت نہ پڑھی ہو۔یہ بھی احتمال ہوسکتا ہے کہ اس نے دہرائی ہواس لیے کہ صحابہ کو یہ بات معلوم تھی کہ قیام فاتحہ کا نماز میں پڑھنا فرض ہے ،چونکہ یہ بات پہلے ہی متحقق تھی اس لیے راوی نے یہ ذکر ہی نہیں کیاکہ کیونکہ دستورہوتا ہے کہ جوبات پہلے ہی معلوم ہوتی اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی البتہ جو بات نئی پیش آتی ہے اس کو ذکر کیا جاتا ہے لہذایہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نےیہ رکعت دہراکرپڑھی ہوپھر چونکہ یہ بات(یعنی قیام اورسورۃ فاتحہ کے سبب رکعت کا دہرانا)توپہلے ہی معلوم تھا اس لیے اوپر والے راوی نے اس بات کو ذکر ہی نہ کیا البتہ یہ بات جونئی تھی ۔یعنی حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا صف میں شامل  ہونے سے پہلے رکوع کرنا پھر رکوع ہی کی حالت میں چلتے  ہوئے صف میں شامل ہونا اورحضوراکرمﷺکا اس طرح کرنے سے منع کرنا ذکر کیا جب اس رکعت کے متعلق یہ  دونوں احتمال ہوسکتے ہیں۔

(کیونکہ ذکر کسی بات کا نہیں اورعدم ذکر عدم وجود کو لازم نہیں ہے )توپھر یہ بتایاجائےکہ یہ حضرات یہ یقین سے کیسے کہتے ہیں کہ اس صحابی نے اس رکعت کو نہیں دہرایا بلکہ صرف کسی بنی مزید بات کا ذکر نہیں پھر کیا یہ عالم الغیب ہیں جو ان کو معلوم ہوگیا کہ واقعی اس صحابی نے رکعت نہیں دہرائی اوراگر یہ عالم الغیب نہیں ہیں اوریقینا نہیں ہیں توپھر یہ قطعی حکم لگانا کہ اس صحابی نے رکعت نہیں دہرائی اورآپﷺنے اس کو دہرانے کا حکم بھی نہ دیا اوراس بنائے ہوئے مفروضے پر پھر یہ متفرع کرنا کہ بس اس سے ثابت ہوا  کہ رکوع سے رکعت ہوگئی یہ کتنی ہی عجیب بات ہے ۔اصل بنیاد ہی ثابت نہیں توپھر جوان پر تفریع کی جاتی ہے وہ کہاں سے ثابت ہوگی ۔کیا کتاب وسنت سے جو باتیں فرض ہوتی ہیں وہ صرف کچھ موہوم احتمالات کی بناء پر ساقط کردی جائیں گی؟

اس کے علاوہ اس حدیث میں یہ بیان ہےکہ وہ صحابی صف سے باہر رکوع کرتا ہواآیاپھرآکرصف میں شامل ہواکیا یہ حضرات اس فعل کوجائز کریں گے یعنی دوسراکوئی اس طرح کرے کہ امام رکوع میں جائے پھر مسبوق مسجد میں داخل ہوتے ہی دورسےرکوع کرتا ہواآئے،اورصف میں شامل ہوجائے کیا اس طرح جائز کہیں گے؟

بالکل نہیں کیونکہ حضوراکرمﷺنے ان کو منع کردیاکہ ایسا نہیں کرنا یعنی آپﷺنےفرمایاکہ‘‘زادك الله حرصاولاتعد’’اللہ آپ کے حرص کو (دینی کاموں میں)بڑھائے آئندہ ایسے نہ کرنا اب جب ایک بات سے آپﷺنے منع فرمایا(یعنی اس نےکیسے پھر کیا لیکن آپﷺنے اس طرح کرنے سے آئندہ کے لیے روک دیا توپھر روکےہوئے کام کو کیسے جائز کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس صحابی کی روایت میں اس طرح پھرآتاہےکہ حضوراکرمﷺکےسوال کرنے پر اس نے جواب دیاکہ:

((نعم جعلنى الله فداك خشيت اماتفوتين ركعة معك فاسرعت المشى.))

‘‘یعنی ہاں اللہ کے رسولﷺاللہ تعالی مجھے آپ پر قربان کرے مجھے خوف ہوا کہ مجھ سے رکعت فوت نہ ہوجائے اس لیے چلنے میں جلدی کی۔’’

یہ حضرات کہتے ہیں کہ اس صحابی کا مطلب تھا کہ اگر میں رکوع میں شامل ہوگیا تورکعت  فوت ہوگی،اس لیے چلنے میں جلدی کی کہا جائے گا کہ یہ صحابی رکوع میں شامل ہونےسے رکعت ملنے کا قائل تھا۔آپﷺنے اس پر ردنہ کیا ۔یہ ہے ان کی دلیل کا خلاصہ۔

لیکن اول تو سوچنے کی یہ بات ہے کہ حدیث کا یہ ٹکڑا جواپنے دلیل میں پیش  کیا جاتاہے،ان کی سند کہاں ہےیہ عجیب انصاف ہے کہ ایسے زبردست مسئلے میں جس میں  دوفرض گرتے ہیں اس بے سندروایتیں لاکرمعرض استدلال میں پیش کرتے ہیں کیا یہ افسوسناک حقیقت ہے؟

اگراہل حدیث حضرات بھی اپنے مسائل کو ثابت کرنے کے لیے یہ طرز عمل اختیار کریں گے اوراس قسم کے بےسند دلیل اورروایتیں پیش کریں گے توپھر بیچارے مقلدین کے لیےبجاہے۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کتنی جگہوں پر حنفی حضرات کچھ احادیث پیش کرتے ہیں تواہل حدیث علماء ان کو کہتے ہیں کہ ان احادیث کی سند نہیں  ہے یا توسند پیش کرویاپھر دلیل معرض احتجاج میں پیش نہ کرواوریہ بات واقعی کے اعتبارسے بھی صحیح ہے ۔پر اس مسئلے میں وہ اپنے اس مسلک اورصحیح اصول کو کیوں بھول جاتے ہیں ۔کیا یہ نمونہ‘‘خودرافضیحت دیگرآں رانصیحت ’’کے مصداق نہیں ہےمجھے تویہ ٹکڑاکسی بھی ایسی حدیث کی کتاب سے نہیں ملاجس میں اس کی سند بھی شامل ہواورظاہر ہے کہ اسنادکے سواروایت بیکارہےورنہ اگراسنادکی پابندی نہ ہوتی توہر کوئی اللہ کے رسولﷺکی طرف جو چاہتا وہ نسبت کرتا اوردین کی صورت کیاسےکیا ہوجاتی۔

بہرحال جو بھی اس قطعہ سے استدلال کرتا ہے اول تو اس کو اس قطعہ پر مشتمل حدیث کوکسی مستند کتاب سے یااسنادنقل کرنی چاہئے ،پھر استدلال میدان میں آکرپیش کرےپھردیکھیں کہ اس کی سند قابل حجت ہے یا نہیں لیکن اگراس کی سند پیش نہ کرسکے توپھر ان سےاستدلال کرنا اپنی جہالت ظاہر کرنا ہے یا تجاہل عارفانہ کرکے محض فتوی کو ثابت کرنے کی کوشش اوریہ دونوں باتیں مذموم ہیں اورکوئی بھی ان کو اچایا صحیح نہیں کہے گا۔

دوسری بات یہ کہ یہ ٹکڑآپﷺکے صحابی نے سوال کے جواب میں پیش کیا سوال یہ تھا۔(جواس حدیث میں مذکورہے)کہ

((انت أحب هذاالنفس.))

‘‘کیاتونہیں تھاجواس طرح سانس لے رہا تھا۔’’

یعنی صحابی نے جلدی کی تھی اس لیے سانس لے رہا تھا لہذا آپﷺنے اس کے سانس لینے کی آواز سنی اورپوچھاکہ توہی سانس لے رہا تھا)مطلب کہ صحابی سے دوغلطیاں صادرہوئی تھیں ایک تونماز کی طرف چلنے میں جلدی کررہا تھا حالانکہ اس کو حکم تھا کہ نماز کی طرف آوتوآرام اوروقارسے،جلدی نہ کروپھر جونماز ملے وہ پڑھواورجوفوت ہوجائے وہ پوری کرواس لیے آپﷺنے فرمایا:

((صل ماأدرك واقض ماسبقك.))

‘‘یعنی جلدی نہ کرچلنے میں تیزی نہ کرباقی جونماز ملے وہ اداکرجوفوت ہوگئی وہ پوری کر۔’’

دوسری غلطی یہ تھی کہ صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کرتے ہوئےآکرصف میں شامل ہوااس لیے یہ ارشادفرمایاکہ:

‘‘زادك الله حرصاولاتعد’’

‘‘اللہ آپ کے حرص کو بڑھائے آئندہ ایسے نہ کرنا’’

 اب ان حقیقتوں کوذہن میں رکھ کر غورکریں کہ اصل معاملہ کیا تھا،یعنی اصل معاملہ یہ  معلوم ہوتا ہےکہ صحابی مسجد میں داخل ہواتوآپﷺابھی تک قیام میں تھے لہذا صحابی نےدوڑلگائی تاکہ رکعت فوت نہ ہولیکن وہ صف سے دورتھے کہ آپﷺرکوع میں چلے گئےیہ تھا ان کا بیان جوآپﷺنے جلدی کرنے کے سبب اورسانس لینے کے بارے میں دریافت کیا۔مگرجب صحابی نے دیکھا کہ رکعت توگئی پھر ارادہ کیا کہ رکوع تونہ جائے کیونکہ اگرچہ رکعت توپوری نہ ہوئی مگرامام کے ساتھ کسی بھی رکن میں شامل ہونے پر کم ازکم ثواب توملے گااس لیے کہ آپﷺنے فرمایاکہ مجھے جس حالت میں دیکھو اس میں شامل ہوجاوقیام کی حالت میں یا رکوع کی حالت میں یا سجدہ کی حالت میں جس حالت میں ہوں تم بھی ان میں شامل ہوجاو۔

مطلب کہ امام جس حالت میں ہومسبوق کواس میں شامل ہونا ہے اوریہ ظاہرہے کہ سجدے میں شامل ہونے والارکعت کو بالاتفاق نہ پہنچ سکا،لیکن حکم یہی ہے کہ اس حالت میں امام کے ساتھ ہوجاوتاکہ سجدے میں شمولیت کا ثواب تونہ جائے گورکعت دہرانی پڑے اس لیے اس صحابی نے بھی  یہ خیال کیا کہ رکعت توگئی اب آپﷺکےساتھ رکوع میں شامل ہوجاوں تاکہ اس کاتوثواب حاصل ہو،یہ سبب تھا دوسری غلطی کا یعنی صف میں شامل ہونے سے پہلے رکوع کرتے دوڑلگانا۔

دوسرایہ بھی احتمال ہوسکتا ہےکہ صحابی کا یہ مطلب تھاکہ حضورﷺسمجھےیہ خوف ہواکہ کہیں مجھ سے رکوع نہ نکل جائےکیونکہ ان کے ملنے سے اگرچہ رکعت تونہیں ملی لیکن اس میں شامل ہونے سے کم سے کم ان کا توثواب ملے گا۔تب جلدی کی اس احتما ل کے مطابق اس قطعہ میں جو لفظ رکعت کا ہے ا س کے معنی رکوع ہوگی اوریہ معنی اس کا حقیقی نہیں ہے بلکہ مجازی ہے مگریہاں ان کے لیے قرینہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ رکوع میں جاچکے تھے لہذا خطرہ بھی اس کی فوت ہونے کا ہوسکتا تھانہ کہ رکعت بمعنی حقیقی معنی کے،کیونکہ یہ تورکوع میں جانے سے فوت ہوچکی  تھی پھراس کے فوت ہونے کے خوف کا کیا معنی اس پر خوب غورکرو،اس کے علاوہ ان ساری باتوں یا احتمالات سے قطع نظربھی کیا جائے توبھی اس قطعہ کے آخر میں(جسے دلیل کے طورپرپیش کیا جاتا ہے)یہ الفاظ ہیں کہ ‘‘واقض ماسبقك’’یعنی جوفوت ہوچکا رکعت وغیرہ اس کو پوری کرو۔یہ الفاظ توخودہمارے مسلک کی واضح تائید کرتے ہیں۔

یعنی آپﷺنے حکم فرمایاکہ اپنی فوت شدہ یارہی ہوئی رکعتوں وغیرہ کو پوری کرواس سے یہ توہرگزمعلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس کی رکعت ہوگئی۔اس طرح الحمدللہ سارااشکال اوراعتراض رفع دفع ہوگیا۔

خلاصہ کلام:......اس قطعہ والی روایت جوپیش کی جاتی ہے اول تواس کی سند نہیں ہے ۔لہذا حدیث قابل استدلال نہیں ہے ۔اس کے بعد اس کے متن میں دوسرے بھی احتمال موجود ہیں(ان کے پیش کئے ہوئے احتمال کے علاوہ)اورجب تک  ان احتمال کو غلط ثابت نہ کیاجائے تب تک ان کا استدلال صحیح نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک توہمارے احتمال قواعد شرعیہ اورثابت شدہ اصول سے بالکل موافق ہیں اوردوسرا‘‘اذاجاء الاحتمال بطل الاستدلال’’اس کے علاوہ اس کے آخرمیں جو الفاظ ہیں وہ ہمارے مسلک کی تائید کرتے ہیں۔جیسے اوپرتفصیلا گزرچکا ہے۔

مطلب کہ یہ ٹکڑاتوقابل استدلال نہیں ہےرہی بات اصل حدیث حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی کی تووہ اگرچہ صحیح ہے لیکن اس سے مزعومہ اورمفروضہ دعوی پر دلیل تب ہی لی جاسکتی ہےجب اس حدیث سے یہ ثبوت ملے کہ واقعی حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہ رکعت نہیں دہرائی اوردوسری حضوراکرمﷺجن کواس بات کا پتہ بھی چلامگرآپﷺنے اسے اعادہ کا حکم نہیں دیا۔جب تک ان دونوں باتوں کو صحیح حدیث یا سند سے ثبوت مہیانہیں کیا جاتا تب تک یہ دلیل نہ تمام ہے اورحجت کے قابل ہی نہیں ہے ان کو استدلال کے درمیان میں لایاجائے ۔یہاں مخالفین کے دلائل پر کلام مکمل ہوا۔واللہ اعلم!

اس کے بعد ہمارے دلائل پر غورکریں اگرچہ ضمنا اوپر والے کلام میں ہی آپ کو اصل حقیقت کا کما حقہ ادراک ہوچکاہوگا،پھر بھی یہ بات تقویت دینے کے لیے دومزید دلائل پیش کرتے ہیں اورحدیث بھی صحیح ہے۔(بخاری کی روایت ہے )کہ

((إذاأتيتم الصلاة فماأدركتم فصلواومافاتكم فاتموا))

‘‘یعنی جب نماز کی طرف آوتوجتنی نماز ملے وہ پڑھو(جماعت وامام کے ساتھ)اورجتنی فوت ہوجائے اس کو پوراکرو۔’’

اس سے دلیل اس طرح لی جاتی ہے کہ جورکوع میں آکر ملتا ہے اس سے قیام اورسورہ فاتحہ  دونوں فوت ہوگئے لہذا ان کو امرموجب (اورامروجوب کے لیے ہی ہوتا ہے لامع قرینہ)ان فوت شدہ کا (قیام وفاتحہ)کو پوراکرنا ہے یہ تب ہی ہوسکتا ہے جب رکعت دہرائی جائے یہ حدیث بالکل صحیح ہے اس کے اوپر کوئی بھی غباروکلام نہیں ہے اوراس کے مقابل دوسری کوئی بھی دلیل نہیں ہے جس کے لیے اس سے تحقیق کرکےاسے(رکوع کو)باہر نکالاجائے۔

دوسری دلیل آپﷺنے فرمایا:

((لاصلاةلمن لم يقرءبفاتحة الكتاب)) (بخارى ومسلم)

‘‘یعنی جس نے الحمد نہ پڑھی ان کی نماز ہی نہ ہوئی۔’’

یہ بھی حدیث صحیح ہے صحاح ستہ میں موجودہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جس رکعت میں الحمد نہ پڑھی جائے وہ نہیں ہوئی اوررکوع میں ملنے والے سے الحمد فوت ہوگئی لہذاان کی رکعت بھی نہ ہوئی جب نہ ہوئی تودہرائے گا۔

چوتھی دليل:......الحمد اورقیام فرض اورنماز کے اہم رکن ہیں قیام کے متعلق تواحناف حضرات بھی فرضیت کے قائل ہیں لیکن فاتحہ کے متعلق وہ فرضیت کے قائل نہیں ہیں۔

اہلحدیث دونوں کی فرضیت کے قائل ہیں اب ایک چیز جوصحیح حدیث سے فرض ثابت ہوچکی ہے اس کی فرضیت کچھ حالتوں میں ساقط ہونے کے لیے دلیل بھی ایسی ہی قوی ہونی چاہئےجیسے فرضیت کے لیے موجود ہیں صرف احتمالی باتوں سے یا کمزوراوربے سنددلائل سے ان کی  فرضیت گرانا جائز ہے اورنہ مناسب بلکہ انتہا درجے کی جرات ہے جسے اہل علم وعقل کبھی بھی جائز نہ رکھیں گے اوراوپرتفصیل سے آپ کو معلوم ہوگیا کہ اول تو کوئی صحیح دلیل کسی صحیح حدیث سے ہی ملتی ہے لیکن اگرحدیث صحیح ہے تو اس میں ان کی مزعوم دعوی کا ثبوت ملنا مشکل نہ پرمحال ہے پھر ایسے احتمالی دلائل یا ناتمام حجتوں اوربے ثبوت حدیثوں سے ان ارکان کی  فرضیت ساقط کرنے کے لیے ہمارے اہل حدیث آمادہ ہیں تواس سے توبہتر ہے کہ ان ارکان کی فرضیت کا(نمازمیں)ہی انکارکردیں باقی ان کو فرض بھی کہنا پھر ان کی فرضیت ایسےکمزوردلائل سے گرانا ایسا طرزعمل ہے جسے کم ازکم میں تونہیں سمجھ سکتا باقی غرباء اہل حدیث والے کہتے ہیں کہ جس ہستی (حضوراکرمﷺ)نے ان کی فرضیت بیان کی ہے اس نےرکوع میں ملنے کے  لیے پوری رکعت ملنے کا حکم کیا ہے یہ بات انتہائی عجیب ہے کیونکہ اس سے تویہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں ظاہرظہوراوروضاحت سےآیا ہے کہ آپﷺنے مدرک الرکوع کو مدرک الصلاۃ قراردےدیا۔

حالانکہ ایسی قولی دلیل مضبوط توکوئی بھی نہیں رہی حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ والی پہلی حدیث اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ انہوں نے یہ رکعت دہرائی یا نہیں جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں تب تک دعوی ثابت نہ ہوگا،پھریہ حضرات حضوراکرمﷺکی طرف یہ بات کیسے منسوب کرتے ہیں جس کی نسبت کرنایقینی نہیں کاش ہمیں صحیح علم ہوبس اس پر میں اکتفاکرتا ہوں۔

جواب کافی طویل ہوگیا ہے لیکن کیا کریں اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت بھی نہیں تھی امید ہے کہ آپ ا س کو غوراورانصاف سے پڑھیں گے توحق بات آسانی سے آپ کو معلوم ہوجائے گی۔

 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 272

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)