فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1532
(33) زمین کی نیابت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 July 2012 01:17 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک کتاب زیر ترتیب ہے لیکن ایک مسئلہ ذرا الجھ سا گیا ہے لیکن ہے بھی نہایت اہمیت کا حامل ’’اسلام اور زمین کی ذاتی حق ملکیت‘‘ قرآن عظیم کی رو سے ’’زمین خدا کی ہے ، میرا ذاتی نقطہ نظر …‘‘ زمین خدا کی ہے اور وہ کسی فرد واحد کی ذاتی ملک نہیں۔ کیونکہ کوئی بھی شخص… زمین کا ایک انچ ٹکڑا بھی نہیں Manufectureکر سکتا۔ میرے نزدیک… زمین کے سلسلہ میں نیابت کا حق ’’حکومت‘‘ کا ہے خواہ کسی پارٹی یا None Party حکومت ہو۔ ’’ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ کسی بھی فرد کو۔ اس کی رہائش ضرورت کے لیے۔ زمین فراہم کرے۔ اور زراعت یا کاشتکاری کے لیے ایک مخصوص حد تک۔ فی خاندان۔  زمین فراہم کرے۔ یہ زمین، فرد یا افراد کاشت کریں۔ اس سے خود بھی فائدہ اٹھائیں۔ اور حکومت کو بھی فائدہ دیں ۔ لیکن یہ زمین نہ بیچی جا سکے نہ خریدی اور نہ ہی وراثت کے قوانین کے تحت اس کی تقسیم ہو سکے۔ کیونکہ نسل در نسل  زمین کی تقسیم سے قتل وغارت اور فساد سر اٹھاتے ہیں ۔ اور ایسا مسئلہ جس کا منطقی نتیجہ قتل یا فساد ہو … خدا اور قوانین اسلام کے تحت سخت ناپسندیدہ ہے۔ اور عالی جاہ ! آپ دیکھ رہے ہیں۔ کہ ہم لوگ مسلمان بھی کہلاتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ قتل وغارت ’’اس زمین جو فرد نے بنائی بھی نہیں‘‘ کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔

عالی جاہ! امید ہے آپ کی نظر میں مسئلہ پوری طرح واضح ہو چکا ہو گا ۔ آپ دیکھ رہے ہیں غلط بخشی کی وجہ سے ان بڑے بڑے جاگیرداروں کی لاکھوں ایکڑ اراضی ہے ۔ اور وہ اس زمین کا زیادہ تر حصہ کاشت بھی نہیں کر سکتے براہ کرم ناچیز کو امید ہے آپ شرعی نقطہ نظر سے اس بنیادی مسئلہ پر روشنی ڈال کر۔ سمجھائیں گے میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کے قیمتی وقت کو اس طرف استعمال کروں ۔ مجھے چونکہ آپ کے علمی ذخیرہ کی طرف قاری محمد اسلم صاحب آف نوشہرہ روڈ نے متوجہ کیا تھا ۔ اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

آپ کا مکتوب موصول ہوا اسے بار بار پڑھا آخر اس کا جواب لکھنا تھا مگر اسی نتیجہ پر پہنچا کہ جب تک آپ دو باتیں دو ٹوک الفاظ میں واضح نہ فرما دیں تب تک میرا جواب کوئی وزن نہیں رکھتا اس لیے آپ سے گزارش ہے کہ ان دو باتوں کی غیر مبہم الفاظ میں خبر دے دیں ۔

(۱) آپ کے ہاں اسلام سے کیا مراد ہے ؟ (۲) قرآن مجید اور رسول اللہﷺ کی حدیث اور سنت کو آپ دلیل شرعی تسلیم کرتے ہیں ؟

آپ کی طرف سے ان دو باتوں کا جواب موصول ہونے کے بعد جناب کا مطلوبہ مقالہ لکھنا شروع کروں گا۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 74

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)