فتاویٰ جات: عمل بالقرآن
فتویٰ نمبر : 15302
(06)قوت حافظہ کے لئے دعا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 21 March 2016 03:06 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیااحادیث صحیحہ سے کوئی حافظہ کے لیے دعاثابت ہے اگر ہے تو آگاہ فرمائیں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محترم برادرم میں انعام الرحمن صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:امابعد!

آپ کا خط ملا جواب درج ذیل ہے۔

(١):۔۔۔۔۔۔ترمذی شریف میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ روایت مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھ سےقرآن بھلادیا جاتا ہے میرے سینے میں محفوظ نہیں رہتاپھر میں اپنے اندراتنی طاقت نہیں سمجھتاکہ اس کو محفوظ رکھ سکوں ،پھر آپﷺنے ان کو فرمایاکہ اے ابوالحسن کیا میں آپ کو وہ چندکلمات نہ سکھاوں جو کی وجہ سے اللہ تعالی آپ کو نفع پہنچائے اورجن کو آپ سکھائیں ان کوبھی وہ کلمات نفع پہنچائیں اورجو توسیکھے وہ بھی تیر ے سینے کے اند رمحفوظ رہے ۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺوہ  ضرورمجھے سیکھائیں تو آپ ﷺنے فرمایاکہ جب جمعہ کی رات ہواورآپ رات کے آخری حصہ میں اٹھنے کی طاقت رکھتے ہوں تواس وقت اٹھیں کیوں کہ یہ وقت فرشتوں کے حاضر ہونے کا ہے اوراس وقت کی دعا مستجاب ہے ،میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں کو کہا تھا

﴿سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ‌ لَكُمْ رَ‌بِّىٓ﴾یعنی عنقریب میں تمہارے لیے تمہارے رب سے دعا کروں گا۔پھر(اے علی رضی اللہ عنہ)رات کےاس ٹائم اگر اٹھنے کی طاقت نہیں توپھر درمیانی حصہ میں اٹھ اگراس ٹائم میں بھی اٹھنے کی طاقت نہیں توپھر اول حصہ میں اٹھ اورپھر چاررکعتیں پڑھ اس طرح کہ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کےبعد سورت یس پڑھ اوردوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اورحم دخان،تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اورالم تنزیل السجدہ اورچوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اورتبارک الذی بیدہ الملک’’پھر چوتھی رکعت میں التحیات کے بعد اللہ تعالی کی حمدو ثنا بیان کراورمجھ پر درودبھیج پھر تمام انبیاء پر بھی صلوۃ وسلام بھیج پھر تمام مومن مرداورمومنہ عورتوں کے لیے مغفرت کی دعامانگ اورتجھ سے قبل جو تمہارےمسلمان بھائی فوت ہوچکے ہیں ان کے  لیے بھی مغفرت کی دعا مانگ (یعنی یوں کہو)

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ﴿١٠﴾...الحشر

پھرآخرمیں یہ دعامانگو:

((اللهم ارحمني بترك المعاصي ابداماابقيتني وارحمني ان اتكلف مالا يعنسيني وارقني حسن النظر فيمايرضيك عني اللهم بديع السموات والارض ذاالجلال والاكرام والعزة التي لاترام اسالك ياالله يارحمن بجلالك ونور وجهك ان تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني ان اتلوه علي  انحوالذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والارض ذاالجلال والاكرام والعزة التي لاترام اسالك ياالله يارحمن بجلالك ونور وجهك ان تنور بكتابك بصري وان تطلق به لساني وان تفرج به عن قلبي وان تشرح به صدري وان تغسل به بدني لانه لايعينني علي الحق غيرك ولايوتيه الاانت ولاحول ولاقوة الابالله العلي العظيم))

اے ابوالحسن یہ کام آپ تین یاپانچ یا سات جمعہ کریں گے تواللہ تعالی کے حکم سے تمہاری ہردعاقبول ہوگی اوراس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجاہے کہ یہ دعاکسی مومن سے خطا نہیں ہوگی۔(یعنی قبول ہوگی)

حدیث کے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم سیدنا علی رضی اللہ عنہ پانچ سات جمعہ بعدپھر دوبارہ اس طرح کی مجلس میں آئے اورکہا اےاللہ تعالی کے رسول بیشک اس سے قبل میں قرآن کریم کی چاریااس سے مثل آیات ہی یادکرسکتا تھا لیکن پھر بھی  بھلادی جاتی تھیں لیکن آج (یعنی دعاپرعمل کرنے کے بعد)یہ حال ہے کہ چالیس یا اس کے مثل آیات یادکرتا ہوں اورپھر جب منہ زبانی پڑھتا ہوں تو گویا کہ اللہ تعالی کی کتاب میری آنکھوں کے سامنے ہے اور(یہی حال حدیث میں ہے)اس سے قبل میں حدیث سنتا تھالیکن بعد میں وہ بھول جاتی تھی لیکن آج کتنی ہی حدیثیں اورباتیں سنتا ہوں پھر جب ان کی دہرائی کرتا ہوں توان سے ایک حرف بھی کم نہیں ہوتا اس پر رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ

اےابوالقاسم کعبہ کے رب کی قسم آپ مومن ہیں۔(١)

(١)سنن ترمذي شريف:كتاب الدعوات‘باب في دعاء الحفظ‘رقم الحديث: ٣٥٧۰ ۔

بہرحال یہ پوری کی پوری حدیث قرآن کریم کے حفظ کو آسان بنانے کے لیے لکھی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ راشدیہ

صفحہ نمبر 74

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)