فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 1525
ختم کا کھانا کھنا اور اللہ کے راہ میں دی جانے والی چیز کھانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 July 2012 10:54 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(۱) ہمارے گھر والے بریلوی حنفی ہیں وہ اگر دیگ یا پتیلے میں چاول پکاتے ہیں پھر وہ اس میں سے کچھ پلیٹ میں چاول نکال کر مولوی صاحب سے ختم پڑھواتے ہیں۔ اگر ہم اس چیز سے منع کریں تو کہتے ہیں کہ ختم تو پلیٹ والے چاولوں پر پڑھا گیا ہے دیگ والے چاول کھا لو۔ وہ کہتے ہیں اس میں کیا ختم داخل ہو گیا ہے کہ تم کھاتے نہیں ہم ختم وغیرہ کے چاول روٹی یا اور مٹھائی وغیرہ کیوں نہیں کھا سکتے۔

(۲) ایک چیز اللہ کی راہ میں دی جائے کیا وہ گھر والے بھی کھا سکتے ہیں کیونکہ عالم کہتے ہیں کہ جو چیز اللہ کے راستے میں دی جائے اس پر غریبوں یتیموں اور مسکینوں کا حق ہے اور ختم اللہ کے لیے دیں تو وہ خود کھا لیتے ہیں۔ اور رشتہ داروں کو بلا کر ان کو کھلاتے ہیں اس سارے سوال کا کیا حل ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

(۱) اس لیے نہیں کھا سکتے کہ دین میں ایجاد کردہ کام سے تعاون ہوتا ہے پھر اگر آپ کھا لیں تو ان کو منع کیسے کریں گے ؟

(۲) اگر صدقہ ہے تو صدقہ کرنے والے نہیں کھا سکتے مستحقین صدقہ ہی کو کھلایا جائے۔ ختم والی چیز خواہ اللہ کے لیے ہی مشہور کی جائے نہ کھائی جائے وجہ نمبر ۱ میں گزر چکی ہے۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 70

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)