فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 1524
(25) ختم کے بارے میں حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 July 2012 10:47 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ جو ختم شریف ہے یہ تو اللہ کے نام پر ہی دیتے ہیں تو اس کو نبی  r نے منع بھی کہاں قرار دیا ہے تو  اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جانور ذبح کرتے وقت کوئی قل ہو اﷲ احد پڑھ لے تو یہ بھی اللہ ہی کا نام ہے آیا اس طرح درست ہو گا ؟ نبی کریمﷺ نے کہیں اس سے منع فرمایا ؟ اسی طرح وضوء کرتے وقت قل ہو اﷲ احد پڑھ لینا تو یہ دونوں چیزیں درست نہیں بے شک نام اللہ کا ہی ہے مگر رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں جو چیز رسول اللہﷺ سے ثابت نہ ہو وہ رد ہوتی ہے نبی کریمﷺ کا فرمان ہے :

«مَنْ أَحْدَثَ فِیْ أَمْرِنَا ہٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ»مشکوة ۔ باب الاعتصام بالکتاب والسنة ۔ الفصل الاول

1اور ایک روایت کے الفاظ ہیں

«مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ»

ظاہر بات جس چیز کو رسول اللہﷺ رد قرار دے دیں وہ منع ہی میں شامل ہو گی تو ختم بھی رسول اللہﷺسے ثابت نہیں ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 69

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)