فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15220
(103) لیلۃ القدر کی فضیلت اور علامات
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 13 March 2016 09:22 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لیلۃ القدر کی کیا فضیلت ہے اور اس کو پہنچاننے کے لئے کیا علامات ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لیلۃ القدر کی کچھ علامات احادیث میں اس طرح آئی ہیں ۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( صبیحة ليلة القدر تطلع  الشمس لا شعاع لها  كأنها طست  حتى  ترفع .))

''لیلۃ القدر کی صبح کو سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ وہ ایسے ہوتا ہے جیسا کہ تھالی (پلیٹ)''(مسلم۷۲۶)

اسی طرح سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی  ۖنے فرمایا:

(( أيكم  يذكر  حين  طلع القمر  وهو مثل شق جفنة.))

''تم میں سے کون اسے یاد رکھتا ہے(اس رات) جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کا کنارہ''(مسلم۱۱۷۰)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( لیلة  القدر  ليلة سمحة  طلقة لا حارة ولا باردة تصبح الشمس ثبيحتها ضيعفة حمرآء.))

''لیلۃ القدر آسان و معتدل رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ ہی سردی۔ اس کی صبح کو سورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے ۔ '' (مسند بزارا/۴۸۶، مسند طیالسی۳۴۹، ابنِ خزیمہ۳/۲۳۱''

شیخ سلیم الھلالی اور شیخ علی حسن عبدالحمید نے صفة صوم النبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے صفحہ ٩٠ پر اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)