فتاویٰ جات: شرک
فتویٰ نمبر : 1522
مشرک کے ساتھ تعلقات
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 July 2012 11:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو انسان اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہو اس سے سلام لینی چاہیے یا نہیں اور اسے کھانے پینے کے تعلقات اور دنیا کے تعلقات رکھنے چاہئیں یا نہیں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

اگر وہ اسلام کے ارکان مثلاً کلمہ ، نماز ، زکاۃ ، روزہ اور حج کا پابند ہے تو اس سے مسلموں والا برتائو کرو دنیاوی تعلقات ایسے رکھو کہ وہ شرک چھوڑ دے ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 69

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)