فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15179
(60) تین وتر ادا کرنے کی صورتیں
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 10 March 2016 11:58 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تین ر کعات ادا کرنے کی کیا صور ت ہے۔ کیا دو رکعت وتر پڑھ کر تشہد بیٹھنا درست ہے ؟ بعض حنفی کہتے ہیں کہ ابن مسعود سے مروی ہے کہ :

(( قال رسول الله عليه وسلم وتر  الليل ثلث كوتر النهار صلوة المغرب)) ( دار قكنى)
    '' رات کے وقت وتر دن کے وتر یعنی مغرب کی نماز کی طرح ہیں ۔ اس کا کیا مطلب ؟'' 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تین رکعت ا دا کرنے کی احادیث میں دو صورتیں موجو دہیں ۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ تین وتر اس طرح ادا کیے جائیں کہ دو رکعت ا دا کر کے سلام پھیرا جائے او رپھر ایک رکعت اور پھر ایک رکعت علیحدہ پڑھی جائے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری مع فتح البخاری۲/۵۵۷ پر ابن عمر سے مروی ہے کہ:

((حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلاَةِ اللَّيْلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ: «صَلاَةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى» وَعَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ: «كَانَ يُسَلِّمُ بَيْنَ الرَّكْعَةِ وَالرَّكْعَتَيْنِ فِي الوِتْرِ حَتَّى يَأْمُرَ بِبَعْضِ حَاجَتِهِ.))

    '' ایک آدمی نے رسول اللہ سے رات کی نماز کے متعلق سوال کیاتو آپ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں پھر کوئی تم میں سے صبح ہونے سے ڈرے تو وہ ایک رکعت پڑھ لے وہ ا س ساری نماز کو طاق بنا دے گی ''۔
    اور اسی سند کے ساتھ نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ووتر کی جب تین رکعتیں ادا کرتے تو دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے یہاں تک کہ کسی ضرورت سے بات بھی کرتے ۔
    مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخض تین رکعت وتر ادا کرنا چاہئے تو وہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے پھر ایک رکعت علیحدہ ادا کر لے جو اس کی نماز کو وتر کر دے گی یعنی تین رکعت وتر دو سلام کے ساتھ ادا کرے۔
    اسی طرح امام طحاوی حنفی نے شرح معنای الآثار۱/۲۷۹ کرتے تھے اور ابن عمر نے کہا کہ :" ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یفعل ذلک" ۔ نبی کریم  بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
    انور شاہ کاشمیری نے سیدہ عائشہ کی ایک حدیث درج کی ہے کہ رسول اللہ ایک رکعت وتر اس طرح ادا کرتے تا کہ ( لا کان یتکلم بین الرکعتین والرکعة) دو اور ایک رکعت کے درمیان کلام کرتے تھے۔ لیکن افسوس کہ اسے قوی قرار مان کرلکھا کہ میں چودہ سال تک اس حدیث کا جواب سوچتا رہا ہوں ملاحظہ ہو العدف الشذی۱/۲۲۱، معارف السنن  ۴/۲۶۴ درس ترمذی۲/۲۲۴۔
    نماز وتر کی تین رکعت ادا کرنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس اسے ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ ادا کیا جائے کیونکہ تشہد ادا کرنے سے نماز مغرب کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جس سے اللہ کے رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم   نے منع کیا ہے۔ جیسا کہ سیدنا ابو ہرہر سے مروی ہے کہ :

(( قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  لا توتروا بثلاث تشبهوا بصلاة المغرب))

    '' رسول اللہ نے فرمایا تین وتر اس طرح ادا نہ کر وکہ وہ مغرب کی نماز ے مشابہ ہوں ''۔ (مستدرک حاکم۱/۳۰۴ ، بیہقی۳/۳۱، نصب ا لرایہ۲/۸۶، فتح الباری۲/۵۵۸، نیل الاوطار۳/۴۱، دارقطنی۱۷۱، شرح معانی الآثار۱/۲۹۲)
    اگر دوسری رکعت میں تشہد بیٹھا جائے تو یہ مغرب کی نماز سے مشابہت ہوتی ہے جس کی ممانعت مذکورہ بالا حدیث میں موجو دہے۔ اس طرح اس کی تائید میں سیدہ عائشہ سے بھی مروی ہے کہ :

(( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر بثلاث لا يقعد إلا فى أخرهن.))

    '' رسول اللہ تین وتر پڑھتے اور آخری رکعت کے علاوہ کسی میں بھی تشہدنہیں بیٹھتے تھے ''۔(تلخيص الحبير 2/15, فتح البارى 2/558, تلخيص مستدرك للذهبى 1/307)

    اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ :

((عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إِلَّا فِي آخِرِهَا».))
    '' رسول اللہ کی نماز تیرہ رکعتیں ہوتی اور اس میں پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ آخری رکعت کے علاوہ کسی رکعت میں تشہد نہیں بیٹھتے تھے ''۔  (ترمذی۲/۳۲۱، ابو داؤد۲/۸۶، مسلم۱/۵۰۸)
    جب پانچ وتروں کے درمیان تشہد نہیں تو تین وتروں کے درمیان بھی نہیں ہو گا اور سوال میں مذکور ابن مسعود کی روایت ضعیف ہے۔ امام دارقطنی نےا پنی سنن میں اس روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھاہے کہ" لم یروہ عن الا عمش مرفوعا غیر یحی بن زکریا وھو ضعیف '' (دارقطنی۱۷۳)
    اما اعمش سے یحیٰ بن زکریا کے علاوہ اس روایت کو کسی نے مر فوع بیان نہیں کیا اور یحییٰ بن زکریا ضعیف ہے ۔
    لہٰذ اا س ضعیف رویات کو صحیح حدیث کے مقابلے میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)