فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 1517
سجدہ تعظیمی اور قبروں پر سجدہ
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 July 2012 09:49 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قبروں پر سجدہ تعظیمی یا دوسرا کوئی اور کیا یہ دونوں جائز ہیں یا نہیں اس کی کیا حقیقت ہے تفصیل کے ساتھ واضح کریں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

سجدہ تعظیمی ہو خواہ غیر تعظیمی ہماری شریعت میں غیر اللہ کے لیے جائز نہیں حرام ہے گناہ ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

﴿لَا تَسۡجُدُواْ لِلشَّمۡسِ وَلَا لِلۡقَمَرِ وَٱسۡجُدُواْۤ لِلَّهِۤ ٱلَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ﴾--حم السجد37

’’سجدہ نہ کرو سورج کو اور نہ چاند کو اور سجدہ کرو اللہ کو جس نے ان کو بنایا اگر تم اس کو پوجتے ہو‘‘

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :

«لَوْ کُنْتُ اٰمُرُ أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَۃَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِہَا»

’’اگر میں کسی کو سجدہ کرنا روا رکھتا تو میں عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے‘‘

یہ ابوہریرہ﷜ کی روایت ہے جسے امام ترمذی نے اپنی جامع میں وارد فرمایا ہے۔(الترمذی ۔ الجلد الاول۔ ابواب الرضاع ۔ باب فی حق الزوح علی المرأۃ)اور ابوداود کی قیس بن سعد ﷜ والی حیرہ کے مرزبان والی حدیث میں بھی آپﷺ کا فرمان ہے :

«فَقَالَ لِیْ : أَرَأَیْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِیْ أَکُنْتَ تَسْجُدُ لَہُ ؟ فَقُلْتُ : لاَ ۔ فَقَالَ : لاَ تَفْعَلُوْا لَوْ کُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ یَّسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَائَ أَنْ یَّسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِہِنَّ»الحدیث(کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المراۃ)

’’آپﷺ نے فرمایا مجھ کو اس بات کی خبر دے اگر تو میری قبر سے گزرے تو اس کو سجدہ کرے گا میں نے کہا نہیں فرمایا اگر میں سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو سب سے پہلے عورتوں کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں‘‘  یہ حدیث حسن لغیرہ ہے بعض اہل علم نے اسے صحیح لغیرہ بھی قرار دیا ہے ۔

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 67

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)