فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 1516
سجدہ تعظیمی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 12 July 2012 09:29 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سجدہ تعظیمی کس کو کہتے ہیں کیا وہ عام سجدہ جیسا ہوتا ہے اور قرآن کی اصطلاح میں مشرک کس کو کہتے ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

(۱) سجدہ تعظیمی سجدہ ہی ہوتا ہے صرف اس میں سجدہ کرنے والا مسجود کی تعظیم وتکریم کو مقصود ومعمول بناتا ہے ہماری شریعت میں غیر اللہ کے لیے سجدہ تعظیمی بھی حرام ناجائز اور گناہ ہے ۔

(۲) سورہ حجر کے اواخر میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿فَٱصۡدَعۡ بِمَا تُؤۡمَرُ وَأَعۡرِضۡ عَنِ ٱلۡمُشۡرِكِينَ - إِنَّا كَفَيۡنَٰكَ ٱلۡمُسۡتَهۡزِءِينَ - ٱلَّذِينَ يَجۡعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ﴾--الحجر94-95-96

’’سو سنادے کھول کر جو تجھ کو حکم ہوا اور پرواہ نہ کر مشرکوں کی ہم کافی ہیں تیری طرف سے مذاق کرنے والوں کو جو کہ ٹھہراتے ہیں اللہ کے ساتھ دوسرے کی بندگی سو عنقریب معلوم کر لیں گے‘‘

ان آیات کریمہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ قرآن مجید کی اصطلاح میں مشرک وہ لوگ ہیں جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ومعبود بناتے ہیں﴿الَّذِیْنَ یَجْعَلُوْنَ مَعَ اﷲِ إِلٰہًا اٰخَرَ﴾پر خوب غور فرمائیں مشرک کی حقیقت سمجھ جائیں گے

وباللہ التوفیق

احکام و مسائل

عقائد کا بیان ج1ص 67

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)