فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15144
(33) نماز میں ہاتھوں کا سینے کے اوپر باندھنا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 09 March 2016 09:42 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز میں ہاتھ ناف کے نیچے، ناف کے اوپر یا سینے کے اوپر باندھے جائیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز میں ہاتھ سینے کے اوپر باندھنے چاہئےں جو کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے:

(( عن وائل بن حجر قال صليت مع النبى صلى الله عليه وسلم فوضع يده اليمنى على اليسرى عاى صدره.))

    '' وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کےساتھ نماز پڑھی تو آپ نے اپنا دائیاں ہاتھ پائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر باندھے''۔  (صحیح ابن خزیمہ (٤٧۴) بیہقی ٢/۳٠)
اس طرح اس روایت میں تائید ہیں ۔ مسند احمد ۵/ ۲۲۶ پر مروی ہے کہ :

(( عن هلب : قال رأيت النبى صلى الله عليه وسلم ينصرف عن يمينه  وعن يساره و رأيته قال يضع هذا على صدره.))

    '' ھلب صحابی  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو دیکھا کہ آپ نے اپنے ہاتھوں کو سینے پر رکھا ہو اتھا ''۔
    اس کی تائید اس مرسل روایت سے بھی ہوتی ہے جسے امام ابو داؤد نے سنن ابو داؤد (۷۵۶) میں روایت کیا ہے کہ:

عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَضَعُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يَشُدُّ بَيْنَهُمَا عَلَى صَدْرِهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ»
    سیدنا طاؤس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنے دایاں ہاتھ نماز میں اپنے بائیاں اہتھ پر رکھ کر اپنے سینے پر باندھتے تھے''۔
    ان احادیث کی رو سے نمازی کو اپنے ہاتھ نماز کے اند راپنے سینے پر باندھنے چاہئیں۔ اور زیر ناف ہاتھ باندھنے والی روایت انتہائی ضعیف ہے۔ امام نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ متفق علی ضعفہ کہ اس حدیث کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے اور جو روایت تخت السرہ والی ابو داود سے مروی ہے اس میں عبدالرحمن بن اسحاق الواسطی ضعیف راوی ہے۔ 
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)