فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15129
(20) بغیر وضو قرآن کی تلاوت کرنا کیسا ہے؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 08 March 2016 01:21 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وضو کے بغیر قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جبکہ ایک حدیث میں آتا ہے (( لا یمس القرآن إلا طاھرا ))قرآن کو طاہر کے سوا کوئی نہ چھوئے '' قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بے وضو قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتا ہے کیونکہ کوئی ایسی صریح اور صحیح حدیث یموجود نہیں ہے جس میں بے وضو آدمی کو قرآن مجید کی تلاوت سے روکا گیا ہو اور قرآن مجید کی تلاوت کا حکم خود قرآن مجید میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں :

﴿فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ... ٢٠﴾...المزمل

    '' کہ جو قرآنِ مجید سے میسر ہو ، پڑھو ۔''
    اس میں یہ نہیں کہ وضو کے بغیر نہ پڑھو۔ جو حدیث آپ نے پیش کی ہے یہ حدیث بمجمموع طرقہٖ صحیح ہے کہ طاہر کے سوا قرآن مجید کو کوئی نہ چھوئے ۔ اس کی تفسیر بکاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جمعات میں آجئے جن میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم بھی تھے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  مجلس سے نکل گئے ۔ جب مجلس میں واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا (سبحان اللہ إن المؤ من لا ینجس) کہ مومن نجس نہیں ہوتا یعنی طاہر ہی رہتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ    ( إلا طاهرا) سے مراد الا مومن ہے یعنی کافر قرآن مجید کو نہ چھوئے، مومن چھو سکتا ہے خواہ وہ با وضو ہو یا بے وضو۔
    صحیح بکاری شریف میں ہی ایک حدیث ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ ا س حدیث میں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سوئے ہوئے تھے جب اُٹھے تو اپنی آنکھوں کو ہاتھ سے صاف کیا اور پھر :  

(( قراء العشر الأيات الخواتم من سورة آل عمران ثم قام إلى شن معلقة  فتوضأ منها فأحسن الوضوء ثم قام يصلى))              (صحیح بخاری مع الفتح ١/ ٣٤٤،۳۴۳)

'' نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی ۔ پھر لٹکائے ہو مشکیزہ کی طرف بڑھے اور وضو کیا اور نماز شروع کر دی''۔
    اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے تلاوت کی اور وضوبعد میں کیا۔ امام بخاری ؒ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے:

باب قراءة القرآن بعد الحديث وغيره-
    بے وضو ہونے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔
    یہ بات تو مسلم ہے کہ نبی کریم بے وضو بھی ہوتے تھے اور مسلم شریف کی صحیح حدیث میں ہے کہ :

(( كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله عاى كل أحيانه))
    '' کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے''۔
    اور اللہ کے ذکر میں قرآن مجید بھی داخل ہے۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کیلئے با وضو ہونا لازمی نہیں ہے۔
    اس کا مطلب یہ بھی نہ سمجھ لیا جائے کہ آدمی اپنی عادت ہی بنا لے کہ میں نے تلاوت ہی بے وضو ہونے کی حالت میں کرنی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ با وضو ہر کر کے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

آپ کے مسائل اور ان کا حل

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)