فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 15104
دعا سرا سر عبادت ہے
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 23 February 2016 04:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض لوگ جمعہ کی نماز پڑھ کر ہمیشہ یہ شعرپڑھتے ہیں۔ یہ عمل جائز ہے یا نہیں ؟ شعر اس طرح ہیں :

إِلٰھِی لَسْتُ لِلْفِرْدَوْسِ أَہْلاً
وَلاَ أَقْوٰی عَلٰی نَارِ الْجَحِیمِ
فَھَبْ لِی تَوْبَة وَاغْفِرْ ذُنُوْبِی
فَإِنَّکَ غَافِرُ الْذَنْبِ الْعَظِیمِ
’’ الہی ! میں فردوس کے قابل نہیں ہوں اور جہنم کی آگ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ پس مجھے توبہ کی توفیق بخش اور میرے گناہ معاف کردے۔ تو بڑے بڑے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔‘‘

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے کسی بھی وقت دعا کرنا او راس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنا درست ہے۔ اللہ نے فرمایا :

﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ... ٦٠﴾...غافر

’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے: ’’ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘

اور فرمایا:

﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ... ١٨٦﴾...البقرة

’’ جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں (تو فرما دیجئے کہ ) میں قریب ہوں ، پکارنے والے کی دعا قبول کرتاہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے‘‘ نبیﷺکا ارشاد ہے:

((الدَّعَاء هو الْعِبَادَة))

’’ دعا ہی عبادت ہے‘‘

لیکن جمعہ کے دن یہ شعر پڑھنا اوراسے ایک مستقل عادت بنالینا شرعیل نہیں بلکہ یہ ممنوعہ بدعتوں میں شامل ہے اور نبیa نے یہ فرمایا ہے:

((مَنْ أَحّدَثَ فِی أَمْرِنَا هذا مَالَیْسَ مِنْه فَهوَ رَدٌّ))
’’ جس نے ہمارے دین میں وہ چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ ناقابل قبول ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)