فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 15048
فری میسن تنظیم کا جائزہ
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 22 February 2016 10:05 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

(الف)    ایک شخص فوت ہوا‘ اس نے وصیت کی تھی کہ اسے تابوت میں دفن کیا جائے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟

(ب)    ایک مسلمان فوت ہوا‘ وہ فری میسن تنظیم کا رکن تھا۔ اس کی نماز جناز ادا کی گئی‘ اس کے بعد فری میسنز کی رسمیں ادا کی گئیں۔ اس میت کے متعلق اسلام کا کیا حکم ہے؟ اور جنہوں نے یہ رسمیں ادا کیں یا ادا کرنے کی اجازت دی ان کا کیا حکم ہے؟

(ج)      فری میسن کیا ہے اور اس کے متعلق اسلام کا کیا فیصلہ ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱)         رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام﷢ کے دور میں میت کو تابوت میں نہیں رکھا جاتا تھا اور مسلمان کے لئے انہیں کے طریقے چلنا بہتر ہے۔ اس لئے میت کو تابوت میں رکھ کر دفن کرنا مکروہ ہے خواہ زمین سخت ہو‘ نرم ہو یا نمی والی ہو۔ اگر کسی نے یہ وصیت کی ہے کہ اسے تابوت (لکڑی کے صندوق) میں رکھ کر دفن کیا جائے تو اسکی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ شافعی فقہاء صرف اس وقت صندوق میں رکھنا جائز کہتے ہیں جب زمین بہت نرم ہو‘ یا اس میں نمی ہو۔ اس کے علاوہ کسی صورت میں اس قسم کی وصیت پر عمل کرنا ان کے ہاں جائز نہیں۔

(ب۔ج) فری میسن تنظیم ایک خفیہ سیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد مذہب اور اچھے اخلاق وعادات کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاکہ ان کی جگہ انسانوں کے بنائے ہوئے لادینی قوانین اور ضابطے رائج کئے جائیں۔ اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسلسل انقلاب برپا کئے جائیں اور ایک حکومت کی جگہ دوسری حکومت کو لایا جاتا رہے اور اسے آزادی رائے اور عقیدہ کی آزادی کا نام دیا جائے۔ لیج شہر اس تنظیم کا ایک مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہاں ۱۸۶۵ء میں طلبہ کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں اس تنظیم کے ایک رکن نے کہا: ’’ضروری ہے کہ انسان اللہ پر غالب آجائے‘ اس کے خلاف اعلان جنگ کرے‘ آسمانوں کو چیر دے اور انہیں کاغذوں کی طرح پھاڑدے‘‘ اس سے ہماری مندرجہ بالا رائے کی تائید ہوتی ہے۔ اس کی مزید تائید ۱۹۲۲ء میں منعقد ہونے والی فری میسن کی بڑی میٹنگ کی روداد سے ہوتی ہے۔ اس کے صفحہ ۹۸ پر لکھا ہے ’’ہم پوری طاقت سے افراد میں آزادی فکر کو مضبوط کریں گے‘ ہم اسے انسانیت کے اصل دشمن یعنی مذہب کے خلاف ایک عام جنگ میں تبدیل کریں گے۔‘‘ اس کی تائید میسنز کے اس قول سے بھی ہوتی ہے ’’فری میسن تنظیم نفس انسانی کو اپنا معبود بناتی ہے۔‘‘ وہ کہتے ہیں ’’ہم اہل دین ور ان کی عبادت گاہوں پر صرف فتح ہی نہیں پانا چاہتے بلکہ ہمارا بنیادی مقصدانہیں نیست ونابود کرنا ہے۔‘‘ کاروائی میسنز عالمی کانفرنس ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰۲۔ وہ کہتے ہیں: ’’ماسونیت مذاہب کی جگہ لے لے گی اور ا س کے لاج عبادت گاہوں کا مقام حاصل کر لیں گے…‘‘ اس کے علاوہ ور بہت سی باتیں ہیں جن سے مذاہب کے خلاف ان کی شدید نفرت اور ان کے خلاف ایک مسلسل شدید جنگ کا اظہار ہوتا ہے۔ ماسوسی تنظیمیں قدیم ترین خفیہ تنظیمیں ہیں‘ جن کے بنانے والے نظروں سے اوجھل ہیں۔ ان کی غرض وغایت اکثر لوگوں سے پوشیدہ ہے‘ بلکہ اس کے بہت سے ارکان بھی اس سے واقف نہیں‘ کیونکہ ان سے سرداروں نے جو سازشیں اور خفیہ فریب ترتیب دئیے ہیں‘ انہیں پوشیدہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے اکثر احکام زبانی دئیے جاتے ہیں اور اگر کسی موضوع پر کچھ لکھ کر شائع کرنے ا رادہ کیا جائے تو پہلے اسے ماسونی نگران کونسل کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جو اسے شائع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ماسونیت کی بنیاد جن نظریات پر رکھی گئی ہے وہ مختلف ماخذ سے لئے گئے ہیں۔ جن میں سے اکثر یہودی رسم ورواج ہیں۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ۱۷۱۷ء میں بڑی عبادت گاہ کی بنیاد رکھتے وقت اور اس کے آداب اور خصوصی اشارات ترتیب دیتے وقت یہودی قوانین وہدایات ہی کو بنیاد بنایا گیا۔

ماسونی اب تک حیرام یہودی کو مقدس قراردیتے ہیں اور ا س کے تعمیر کردہ ہیکل اور معبد کو مقدس سمجھتے ہیں‘ حتی کہ دنیا میں فری میسن لاج تعمیرکرتے وقت اسی نمونہ کو پیش نظر رکھا جاتا ہے‘ یہودیوں کے بڑے بڑے پروفیسر اب تک ماسونیت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ فری میسن لاجز میں یہودی تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ماسونیت کے پھیلاؤ اور میسنز میں باہمی تعاون قائم رکھنے کی ذمہ داری انہیں پر عائد ہوتی ہے۔ ماسونیت کے پیچھے پوشیدہ قوت یہی افراد ہیں۔ اس کے خفیہ سیلوں کی قیادت انہی کے خواص کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ ان کے معاملات سنبھالتے‘ ان کے منصوبے تشکیل دیتے اور حسب منشا ان کی رہنمائی کرتے اور ان سے کام لیتے ہیں اور یہ سب کچھ کامل رازداری کے ساتھ انجام پاتا ہے۔ اس کی تائید ماسونی رسالہ کا اکاسیا کے شمار ۶۶مطبوعہ ۱۹۰۸ میں موجود اس بیان سے ہوتی ہے کہ ’’کوئی فری میسن لاج یہودیوں سے خالی نہیں ہوتا اور تمام یہودیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ مذاہب میںداخل نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ یہی کیفیت ماسونیوں کی ہے۔ اسی وجہ سے یہودی عبادت گاہیں ہماری نیابت کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے ماسونیوں میں بہت تعداد میں یہودی پائے جاتے ہیں۔‘‘

نیز اس کی تائی دماسونی ریکارڈ میں موجود اس بات سے بھی ہوتی ہے: ’’یہودیوں کو یقین ہے کہ مذاہب کو مسمرا کرنے کا بہترین ذریعہ ماسونیت ہے۔‘‘ اور اس سے بھی کہ عقیدہ سے ماسونیت کی تاریخ اور یہودیت کی تاریخ ملتی جلتی ہے اور ان کا امتیازی نشان ڈیوڈ کا چھ کونہ ستاہ (DAVID STAR) ہے اور یہود اور ماسونویں دونوں کو ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے والو ںکی روحانی اولا دسمجھا جاتا ہے اور ماسونت جو دوسرے مذاہب کی تردید کرتی ہے یہودیت اور اس کے معاونین کو بلند کرنے کے لئے اپنے دروازے چوپٹ کھول دیتی ہے۔ یہودیوں نے دوسری قوموں کی سادگی اور نیک نیتی سے فائدہ اٹھایا ہے اور وہ خود ماسونیت کے اہم مراکز پر قابض ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے فری میسن لاجز میں یہودیت کی روح پھونک دی اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔‘‘

یہ لوگ اپنی رازداری کو قائم رکھنے کے انتہائی حریص ہیں‘ مذاہب کو گرانے‘ ان کے متعلق شر انگیز منصوبے بنانے اور سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لئے جو پلاننگ کرتے ہیں‘ اسے پوشیدہ رکھنے کی انتہائی کوشش کرتے ہیں۔ اس امر کا پتہ صہیون کے بزرگوں کے پروٹوکول میں موجود اس عبارت سے ملتا ہے: ’’ہم ان اکائیوں کو ایک ہی قیادت کے تحت منظم کریں گے جو صرف ہمیں معلوم ہوں گی۔ یہ قیادت ہمارے علماء سے تشکیل پائے گی اور ان اکائیوں کے خصوصی نمائندے ہوں گے‘ تاکہ وہ مقام پوشیدہ رہے جہاںہماری اصل قیادت قیام پذیر ہو۔ صرف اسی قیادت کو یہ متیعن کرنے کا حق حاصل ہوگا کہ (ا سکی طرف سے) کون کلام کرے اور روزمرہ کے نظام کو چلانا انہی کاحق ہوگا۔ ان اکائیوں میں ہم اشتراکیوں اور معاشرہ کے انقلابی طبقات کے لئے جال اور کانٹے لگائیں گے۔ اکثر خفیہ سیاسی منصوبے ہمیں معلوم ہیں‘ جب وہ تشکیل پائیں گے تو ہم ان کی تنفید کی رہنمائی کریں گے۔ اکثر خفیہ سیاسی منصوبے ہمیں معلوم ہیں‘ جب وہ تشکیل پائیں گے تو ہم ان کی تنقید کی رہنمائی کریں گے۔ بین الاقوامی خفیہ پولیس کے نمائندے ان اکائیوں میں ارکان ہوں گے۔ دنیا میں جب سازشیں ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہمارا کوئی نہ کوئی مخلص ترین نمائندہ اس سازش کو چلا رہا ہے اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ ہم ہی ایک ایسی قوم ہیں جو ماسونی پروگراموں کو گائیڈ کرتی ہے  اور ہم ہی واحد قوم ہیں جو ان کا گائیڈ کرنا جانتے ہیں ہر کام کا آخری مقصود ہمیں معلوم ہوتا ہے۔ جب کہ گویم (غیر یہودی) ان اکثر چیزوں سے ناواقف ہیں جو ماسونیت کا خاصہ ہیں۔ ان کو اس کام کے فوری نتائج بھی نظر نہیں آتے جو وہ کررہے ہوتے ہیں۔‘‘

ان کے علاوہ اور بہت سے ثبوت ہیں جن سے یہودیت اور ماسونیت کا گہرا تعلق ظاہر ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ انقلابی سازشوں اور تخریبی تحریکوں کے برپا کرنے میں دونوں گروہوں میں زیادہ سے زیادہ تعاون پایا جاتا ہے۔ ماسونیت ظاہری طور پر آزادی عقیدہ‘ ایک دوسرے کی رائے کو برداشت کرنے اور معاشرہ کی عمومی اصلاح کی دعوت دیتی ہے لیکن اصل میں یہ انداز سے بے حیائی‘ آوارگی اور معاشروں میں فساد اور توڑ پھوڑ کی دعوت ہے۔ یہ ہر قوم کی اندرونی وحدت کو ختم کرتی‘ شریعت اور اخلاق کی عظیم عمارت کو توڑتی اور منہدم کرتی ہے اور لوگوں میں فساد اور تخریب کی داعی ہے۔

لہٰذ جو مسلمان ماسونی تنظیم کا رکن ہے اور وہ اس کی اصل حقیقت جانتا ہے‘ اس کے پوشیدہ رازوں سے واقف ہے‘ ان کی خاص رسمیں ادا کرتا ہے اور ان کے شعائر کو اہمیت دیتا ہے تو ایسا شخص کافر ہے۔ اس سے توبہ کرنی چاہئے۔ اگر تونہ کرلے تو ٹھیک ہے‘ ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور اگر وہ اسی حالت میں مرگیا تو اس کا انجام کافروں والا ہوگا۔ لیکن جو شخص ماسونیت کی طرف منسوب  ہے اور اس کی جماعت کا رکن ہے۔ لیکن اسے اس کی اصل حقیقت کا علم نہیں اور اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے قائم کی گئی ہے اور یہ ہ راس شخص کے خلاف برے منصبوبے بناتی ہے جو اقوام کو جمع کرنے اور ان کی اصلاح کرنے کیکوشش کرے‘ وہ شخص ان کی عومی دعوت میں شریک ہے اور ان خوشنما الفاظ سے متاثر ہے جو ظاہری صورت میں اسلام کے منافی نہیں‘ تو ایسا شخص کافر نہیں ہوگا‘ بلکہ اسے معذور سمجھا جائے گا کیونکہ ان کی اصل حقیقت اس سے پوشیدہ رہی اور وہ ان کے اصل عقائد میں ان کے ساتھ شریک  ہے نہ ان کے مقاصد میں اور نہ ہی ان کی قابل نفرت مقاصد کے حصول کے لئے راہ ہموار کرنے میں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

(ِإنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ، وَِإنَّمَا لِکُلِّ امْرِیء مَّا نَوَی…)

’’اعمال کا دارومدار نیتو ںپر ہے اور ہر شخص کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔‘‘

لیکن اس کا فرض ہے کہ جب اسے ان کی اصل حقیقت معلوم ہوجائے تو ان سے (نفرت کرتے ہوئے) الگ ہوجائے۔ لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت واضح کرے‘ ان کے پوشیدہ راز آشکار کرنے کی پوری کوشش کرے‘ مسلمانوں کے خلاف ان کے خفیہ منصوبوں کو ظاہر کردے تاکہ ان کی رسوائی ہو اور ان کے کام ضائع ہوجائیں۔ مسلمان کو چاہئے کہ دینی اور دنیوی امور میں اپنے معاونین کی تلاش میں احتیاط سے کام لے‘ دوستوں کے انتخاب میں دوراندیش ہو تاکہ دل کش پروپیگنڈے اور بظاہر شیریں الفاظ کے برے انجام سے محفوظ رہے اور مشرکوں کے جال میں نہ پھنس جائے‘ ان کے اس پھندے میں نہ آجائے جو انہوں نے سادہ لوح ‘ کم عقل اور خواہشوں پرستوں کے لئے لگا رکھا ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ دارالسلام

ج 1

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)