فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14549
(356) ذمی رعیت نیا عبادت خانہ تعمیر نہیں کرسکتی
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 19 January 2016 12:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

كيا ذمی رعیت نیا عبادت خانہ تعمیر  کرسکتی هى ؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

۔ قاضی ابو یوسف تصریح فرماتے ہیں :

ويمنعوا من أن يحدثوا بناء بيعة أو كنيسة في المدينة إلا ما كانوا صولحوا عليه وصاروا ذمة وهي بيعة لهم أو كنيسةفما كان كذلك تركت لهم ولم تهدم. (کتاب الخراج لابی یوسف :ص 127)

کہ عیسائیوں کے نیا صومعہ اور گرجا تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ البتہ جو معاہدے کے وقت گرجا موجود ہو گا اس کو گرایا نہ جائے گا ۔

وما احدث من بناء بيعة او كنيسة فان ذالك يهدم . (کتاب الخراج لابی یوسف ۔ ص 159)

نیا بیعہ اور کنیسہ گرا دیا جائے گا ۔

2۔امام ابوالحسن علی بن محمد الماوردی المتوفیٰ 450ھ رقم فرماتے ہیں :

لايجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة ولاكنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السطانية : 146)

کہ اہل ذمہ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ دارالسلام میں نیا بیعہ یا کنیسہ تعمیر کریں گے تو اس کو گرا دیا جائے گا ۔

3۔ امام ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف النووی شافعی المتوفیٰ 676ھ تصریح فرماتے ہیں :

ويمنعون من احداث الكنائس والبيع والصوامع في بلاد المسلمين لما روي عن ابن عباس رضي الله عنه أنه قال ( أيما مصر مصرته العرب فليس للعجم أن يبنوا فيه كنيسة. ( شرح المھذب ج:19 ص: 412طبع دار الفکر )

مسلمانوں کے شہروں میں ذمیوں کو کنائس ، بیعے اور صومعے بنانے کی اجازت نہیں کیونکہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس ﷜ نے فرمایا کہ جس شہر کومسلمان نئے سرے سے آباد کریں ، اس میں غیر مسلم اقلیتوں کو گرجا وغیرہ بنانے کاحق نہیں ۔

4۔ قاضی ابو یعلیٰ حنبلی المتوفی 458ھ رقم فرماتے ہیں :

لايجوز ان يحدثوا فى دار السلام بيعة ولاكنيسة فان احدثوها هدمت عليهم . (الاحكام السطانية : 146)

اس کا ترجمہ پہلے گزر چکا ہے ۔

5۔ امام محمدبن قدامہ ﷫ حنبلی اور امام ابن کثیر لکھتے ہیں :

لا نحدث في مدينتنا كنيسة ولا فيما حولها ديرا ولا قلاية ولا صومعة راهب ولا نجدد ما خرب من كنائسنا ولا ما كان منها في خطط المسلمين ، وأن لا نمنع كنائسنا من المسلمين أن ينزلوها في الليل والنهار ، وأن نوسع أبوابها للمارة وابن السبيل ، ولا نؤوي فيها ولا في منازلنا جاسوسا. (المغنی لابن قدامة : ج9 ص 282)

جزیرہ کے ذمیوں نے حضرت عبدالرحمن بن غنم ﷜ سے جومعاہدہ کیا تھا اس میں یہ شرط بھی تھی کہ آج کے بعد ہم اپنے شہر کو اس کے گرد دیر اور قلایہ تعمیر نہیں کریں گے اور نہ کسی راہب کے لئے نیا صومعہ بنائیں گے ۔ اوران میں سے جو گر جائے گا ۔ اس کو دوبارہ تعمیر نہیں کریں گے اور اس طرح جو گرجا گھر وغیرہ مسلم آبادی میں ہو گا اس کو بھی دوبارہ نہیں بنائیں گے ہم اپنے گرجا گھروں کو مسلمانوں کے لئے رات دن کھلا رکھیں گے اور اسی طرح گزرنے والوں اور مسافروں کےلئے ان کے دروازے وسیع رکھیں گے تاکہ ان میں آرام کر سکیں ۔ نہ ہم ان گرجا گھروں میں کسی جاسوس کو ٹھہرائیں گے ۔

6۔امام ابن قیم ﷫ فرماتے ہیں : حضرت عمر فاروق ﷜ کے  عامل حضرت عبدالرحمن بن غنم ﷜ سے جزیرہ کے عیسائیون نے از خود معاہدہ کیا تھا اس میں یہ بھی تھا ۔

ان شرطنا لك على انفسنا ان لا نحدث في مدينتنا كنيسة ولا فيما حولها ديرا ولا قلاية ولا صومعة راهب ولا نجدد ما خرب من كنائسنا.(حقوق اھل الذمة : ج2 ص 259۔ 660۔ تحقیق الدکتور صبیحی صالح ۔ طبع دمشق )

ترجمہ اس کا اوپر ابن قدامہ کی عبارت میں آ چکا ہے ۔

ان ائمہ کرام اورماہرین قوانین اسلام کی تصریحات سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کو جب کہ وہ اہل کتاب بھی ہیں ۔ مسلم  ممالک میں نئے گرجے اور عبادت خانے تعمیر کرنے کی اسلام اجازت نہیں دیتا ۔ اور جو گرجائے اس کی تجدید بھی جائز نہیں ، جیسا کہ حضرت عمر فاروق ﷜ نے فرمایا:

لما روى كثير بن مرة قال سمعت صلى الله عليه وسلم لا تبنى الكنيسة فى  دار السلام ولا يجدد ما خرب منها – ( شرح المهذب : ج19 ص 413)
كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دار السلام میں گرجا وغیرہ گر جائے تو اس کی تجدید بھی جائز نہیں ۔ جب اہل کتاب عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے رسول اللہﷺ نے دار السلام میں گرجے اور صومعے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی ، حالانکہ وہ اہل کتاب ہیں تو پھر قادیانی مرتدوں اور کافروں کو دار السلام اور مسلمان ملک میں مسجد کے نام سے عبادت خانہ بنانے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے ، اور وہ اپنے مذہبی مرکز کو مسجد کے نام سے کیسے پکار سکتےہیں ۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص866

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)