فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 145
گرگٹ اور چھپکلی مارنا
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 03:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

گرگٹ  یا چھپکلی کو مارنا کیسا ہے۔ ؟ کیا انہیں مارنے سے ثواب ملتا ہے۔؟ اگر انہیں مارنا جاءز ہے تو کیا انہیں ڈھونڈ  ڈھونڈ کر مارنا چاہیے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

«أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا»(صحیح مسلم، کتاب السلام، باب استحباب قتل الوزغ)

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے ’فاسق“ قرار دیا ہے۔

ایک اور روایت کے الفاظ ہیں:

«أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَقَالَ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام»

(صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا)

اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ’وزغ‘ کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے جلائی گءی  آگ میں پھونکیں مارتی تھی۔

بعض روایات میں ’وزغ‘ کو قتل کرنے کے بارے اجر وثواب کا بھی تذکرہ ہے۔(سنن الترمذی، کتاب الاحکام والفوائد، باب ماجاءفی قتل الوزغ)

2۔پس ’وزغ‘ کو مارناسنت اور باعث اجر وثواب فعل ہے۔ شیخ صالح العثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

أما قتل الوزغ فإنه سنة وفيه أجر عظيم۔(فتاوی نور علی الدرب:جزء111، ص41، المکتبة الشاملة)

’وزغ‘ کا قتل کرنا سنت ہے اور اس میں اجر عظیم ہے۔

3۔’وزغ‘ کی بہت سی اقسام ہیں اور ہمارے ہاں گھروں میں پائی جانے والی چھپکلیاں اس کی ایک قسم ہیں۔عربی میں ’وزغ‘ کا ترجمہ ’سام ابرص‘ اور انگریزی میں’گیکو‘ کہتے ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ چھپکلی بھی ’وزغ‘ ہی کی ایک قسم ہے اور اسے ”وزغ‘ سے نکالنا درست نہیں ہے۔

3۔ ’وزغ‘ کو مارنے کی حکمت اس کا فاسق اور موذی ہونا ہے یعنی ایذا دینے والی مخلوق ہے اور ایذا دینے والی مخلوق کو ہلاک کرنے کا اسلام حکم دیتا ہے تا کہ نوع انسانی کو اس کی ایذا سے بچایا جائے۔کتنے ہی ایسے واقعات سننے اور اخبارات میں پڑھنے کو ملتے ہیں کہ چھپکلی کھانے یا پینے کی کسی شیء میں گر گئی اور اس کے زہریلے پن سے اہل خانہ کی موت واقع ہو گئی۔

4۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت میں بتلایا ہے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو پھونکیں مارتی تھی۔اس روایت میں چھپکلی کی فطرت کی طرف بھی اشارہ کیا گیاہے جیسا کہ سانپ اور بچھو کی فطرت ڈنگ مارنا ہے۔ پس چھپکلی کی فطرت اہل ایمان کی عداوت اور ان کے ساتھ بغض کااظہار ہے۔یہ واضح رہے کہ یہ چھپکلی کو مارنے کی علت کا بیان نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کیونکہ جس چھپکلی نے پھونکیں ماری تھیں، وہ ، وہ نہیں ہے جسے آج ہمیں قتل کرنے کاحکم دیا گیا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

محدث فتوی

فتوی کمیٹی


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)