فتاویٰ جات: تراجم حدیث
فتویٰ نمبر : 14414
(222) قربانی کے لئے کون سا جانور موزوں ہے
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 03 January 2016 04:28 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قربانی کے لئے کون سا جانور موزوں ہے؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لفظ موزوں ایک عام لفظ ہے۔ اگر اس سے مراد قربانی کے جانور کی نوع اور قسم کی تعیین مقصود ہے تو پھر موٹا تازہ دنبہ ار مینڈھا زیادہ ہے کیونکہ آنحضرتﷺ اکثر مینڈھے کی قربانی دیتے تھے۔

عَن انس رضی اللہ عنہ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ، وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ۔ (بخاری: کتاب الاضاحی ج۲ص۸۳۳)

کہ آنحضرتﷺ دو مینڈھے قربانی کیا کرتے تھے اور میں (انس رضی اللہ عنہ) بھی دو مینڈھے قربانی کرتا ہوں۔

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ يَطَأُ فِي سَوَادٍ، وَيَبْرُكُ فِي سَوَادٍ، وَيَنْظُرُ فِي سَوَادٍ، فَأُتِيَ بِهِ فضَحِّيَ۔ (ابو داؤد: باب ما یستحب من الضحایا ص۳۸۲)

کہ آنحضرتﷺ نے سینگدار خالص سیاہ مینڈھا منگوایا اور اس کی قربانی کی۔ (یہ روایت مسلم شریف ص۱۵۶ج۲۔نسائی شریف: باب الکبش ص۱۹۷ج۲، باب الکبش، تحفة الاحوذی ص۳۰۴ ج ۲) تاہم مینڈھے کے بعد اونٹ پھر گائے، پھر بکری وغیرہ۔

اگر موزوں کے الفاظ سے جانور کی عمر مطلوب ہے تو پھر قربانی کا جانور دو دانت (دوندا) ہونا ضروری ہے کیونکہ حدیث شریف میں ہے:

عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنَ الضَّأْنِ۔

کہ آنحضرتﷺ کا حکم ہے کہ قربانی کا جانور دوندا ہونا چاہیے۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر دنبہ یا مینڈھا بھی جائز ہے۔ (بشرطیکہ وہ موٹاتازہ ہو)

گائے، اونٹ،بکرا، کھیرا قطعاً جائز نہیں ہے۔ مسنہ اونٹ وہ ے جو پانچ سال پورے کر کے چھٹے میں داخل ہوجائے۔ گائے تیسرے سال میں اور بکری دوسرے میں داخل ہو۔ اگر موزوں سے مراد یہ ہے کہ قربانی کے جانور میں کون کون سا عیب نہ ہو تو مندرجہ ذیل جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں:

۱۔ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُضَحِّيَ بِمُقَابَلَةٍ، أَوْ مُدَابَرَةٍ، أَوْ شَرْقَاءَ، أَوْ خَرْقَاءَ، أَوْ جَدْعَاءَ۔ (نسائی: ص۱۹۰ج۱۔ تحفة الأحوذی شرح ترمذی: ص۳۵۴ج۲)

کہ آنحضرتﷺ نے (۱)سامنے سے کان کٹا (۲) جڑ کی طرف سے کان کٹا (۳) آگے سے  کان چرا ہوا (۴) کان میں گول سوراخ (۵) اور ناک کٹا جانور بطور قربانی ذبح کرنے سے منع فرمایا۔

۲۔ عن البرآء قال سمعت رسول اللہﷺ لَا يَجُوزُ مِنَ الضَّحَايَا: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تُنْقِي۔ (رواہ الخمسة، نسائی: ص۱۹۰ج۲، باب العحفاء۔)

کہ قربانی میں پورا بھینگا، پورا لنگڑا، بیمار اور دبلا جانور ذبح کرنا بحکم رسول اللہﷺ منع ہے۔

۳۔ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ القَرْنِ وَالأُذُنِ۔ (تحفة الأحوذی: ص۲۵۷ج۲، نسائی ص۱۹۶ج۲)

کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: سینگ ٹوٹے اور پورا کان کٹے کی قربانی نہ کی جائے۔

فائدہ۔۔۔: اَجْلَحْ، یعنی قدرتی بے سینگ جانور کی قربانی بالاتفاق جائز ہے، تاہم شوافع کے نزدیک مکروہ ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص591

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)