فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 14367
(174) دو نمازوں کو جمع کرنے کا کیا حکم ہے؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 29 December 2015 11:55 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنے کا کیا حکم ہے؟ (سائل مولان محمد زکریا مسجد چینیاوالی لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بارش، سخت کیچڑ وغیرہ کے مواقع پر جمع بین الصلوٰتین جائز ہے، جیسا کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا: الظُّهْرَ وَالعَصْرَ وَالمَغْرِبَ وَالعِشَاءَ "، فَقَالَ أَيُّوبُ: لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، قَالَ: عَسَى۔ (باب تاخیر الظھر الی العصر: ج۱ص۷۷)

’’رسول اللہﷺ نے مدینہ میں (ایک دفعہ) سات اور آٹھ رکعتیں جمع کر کے پڑھیں، یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو جمع کیا تھا۔ ابو ایوب سخیتانی نے پوچھا کیا اس کی وجہ بارش تھی؟ تو جابر بن زید نے کہا امید ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔‘‘

اگرچہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر طویل محدثانہ بحث وتمحیص کے بعد اس عمل کو جمع صوری قرار دیا ہے، تاہم امام ابن تیمیہ صاھب متقی الاخبار نے یہ فیصلہ دیاہے:

وَھٰذَا یَدُلُّ بِمَعْنَاہُ عَلَی الجَجْعِ لِلمَطرِ والخوف وللمرض۔ (نیل الاوطار: ج۳ باب جمع المقیم لمطر او لغیرہ ص۲۱۸)

’’یہ حدیث اپنے مفہوم سے بارش، خوف اور مرض کی وجہ سے نمازوں کو جمع کر کے پڑھنے پر دلالت کرتی ہے۔‘‘

امام ترمذی اس حدیث کے آخر میں فرماتے ہیں:

قَالَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ: يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي المَطَرِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ۔ (تحفة الأحوذی
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص533

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)