فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 14344
(151) تین وتر پڑھتے وقت درمیانی تشہید پڑھا جائے یا نہ پڑھا جائے؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 24 December 2015 12:00 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا تین وتر پڑھتے وقت درمیانی تشہید پڑھا جائے یا نہ پڑھا جائے؟ (سائل: لطیف شریف رحمان گلی نمبر۴لاہور)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

 

تین رکعت وتر رسول اللہﷺ سے معتبر سندوں کے ساتھ دو طرح ثابت ہیں: ایک یہ کہ تین رکعت ایک تشہد کے ساتھ پڑھ کر سلام پھیرنا۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:

وَعَن عَائشة قَالتْ کَان رسول اللہﷺ يوترُ بثلاثٍ لا يفصلُ بينَهن۔ (رواہ احمد والنسائی وقال الشوکانی حدیث عائشة فاخرجه ایضا البیھقی والحاکم بلفظ احمد واخرجه ایضا البیھقی والحاکم بلفظ النسائی وقال الحاکم صحیح علی شرط الشیخین، نیل الأوطار: ج۳،ص۲۵)

’’حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ تین رکعت وتر نماز پڑھتے، اخیر کے تشہد کے سوا اور کہیں نہ بیٹھتے یعنی تینوں وتر ایک ہی تشہد کے ساتھ پڑھتے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد، امام نسائی اور بیہقی نے بیان کیا، امام احمد اور حاکم کے لفظوں میں اختلاف ہے۔ مگر معنی سب کا ایک ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍمنھن  إِلَّا فِي آخِرِهن» . (متفق واللفظ لمسلم: ج۱ص۲۰۴ باب صلوة اللیل وعدد رکعات النبی ونیل الاوطار ج۳ ص۳۶)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ رات کو تیرہ رکعت پڑھتے تھے ان میں پانچ وتر ہوتے تھے، ان پانچ وتروں کو ایک ہی تشہد کے ساتھ ادا فرماتے بیچ میں قعدہ کے لئے نہ بیٹھتے۔

دوسرا یہ کہ دو رکعت وتر کی نماز پڑھ کر سلام پھیرتے تھے اور پھر ایک رکعت الگ تنہا پڑھتے تھے۔ اس حدیث کو امام احمد نے بیان کیا اور اس کو قوی کہا ہے اور ابن حبان اور ابن سکن نے بھی اس حدیث کو اپنی صحیحین میں روایت کیا ہے اور طبرانی نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ اسی طرح تلخیص الحبیر میں ہے۔ (فتاوی علمائے حدیث: ص۲۳۹ج۴۔)

وَعن ابن عمر انه کان یسلم بین الرکعة والرکعتین فی الوتر حتی کان یأمر ببعض حاجته۔ (صحیح البخاری: باب ما جاء فی الوتر ج۱ ص۱۳۵)

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیتے، پھر وتر کی ایک رکعت علیحدہ پڑھتے یہاں تک کہ دو رکعت پڑھنے کے بعد کسی ضروری کام کا حکم دیتے پھر وتر کی ایک رکعت پڑھتے۔‘‘

اس حدیث کا صحیح سیاق یہ ہے۔

وَعن ابن عمر انه کان یسلم بین الرکعة والرکعتین فی الوتر حتی یأمر ببعض حاجته۔ (اسناد قوی، نیل الاوطار: باب الوتر برکعة الخ ج۳۳ص۳۳)

’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلے شفعہ کو سلام کو ساتھ وتر کی رکعت سے علیحدہ پڑھتے تھے اور یہ بھی کہتے کہ رسول اللہﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔‘‘ کما رواہ الطحاوی۔ (نیل الاوطار ج۳ ص۲۳)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تین وتروں کو دونوں طرح پڑھنا جائز ہے۔ یعنی تین وتر ایک تشہد کی ساتھ پڑھنا جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی دونوں احادیث(صحیح مسلم اور مسند احمد وغیرہ) سے ثابت ہوتا ہے یا پھر دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دینا اور تیسرا وتر جدا پڑھنا۔

آخر میں یہ بھی یاد رکھئے کہ جس طرح علمائے احناف تین وتر دو رتشہد کے ساتھ پڑھتے چلے آ رہے ہیں یہ طریقہ صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل حدیث اس طریقہ کے خلاف ہے۔ حدیث یہ ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَوْتِرُوا بِثَلَاثٍ , أَوْتِرُوا بِخَمْسٍ , أَوْ بِسَبْعٍ وَلَا تَشَبَّهُوا بِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ
رواہ الدار قطنی باسنادہ وقال کلھم ثقات وقال الشوکانی وأما حدیث أبی ھریرۃ فأخرجه أیضا ابن حبان فی صحيح والحاکم وصححه قال الحافظ ورجاله کلھم ثقات ولا یضرہ وقف من وقفه الخ۔ (نیل الاوطار: ج۳ ص۳۵،۳۶)

’’رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ تین وتر نہ پڑھو، پانچ یا سات پڑھو اور مغرب کی نماز سے مشابہت نہ کرو۔‘‘

یہ حدیث بہرحال قابل حجت اور معتبر ہے۔ چونکہ تین وتر رسول اللہﷺ سے پڑھنے بلا اختلاف ثابت ہیں۔ لہٰذا اس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ تین وتر مغرب کی فرض نماز کی طرح دو تشہد کے ساتھ اکٹھے نہ پڑھے جائیں، کیونکہ اس نفل نماز کی فرض نماز کے ساتھ مشابہت ہو جائے گی۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں یہی تطبیق بیان فرمائی ہے۔ ھذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

جواب: نمبر ۳: ہاں، ایک رکعت وتر بھی پڑھنا جائز ہے، چنانچہ ترمذی شریف میں امام ترمذی یہ حدیث لائے ہیں:

عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ:سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقُلْتُ: أُطِيلُ فِي رَكْعَتَيِ الفَجْرِ؟ فَقَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ الاخ۔
حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ» وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ: رَأَوْا أَنْ يَفْصِلَ الرَّجُلُ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَالثَّالِثَةِ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ۔ (ترمذی: ص۸۶ج۱، تحفة الاحوذی: ص۳۴۰ج۱ باب ما جاء فی الوتر برکعة۔

’’انس بن سیرین نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں فجر کی سنتوں میں لمبی قرأت کرتا ہوں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت محمد رسول اللہﷺ دو دو رکعت کر کے تہجد پڑھتے تھے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے تھے اور پھر ہلکی پھلکی فجر کی دو سنتیں ادا فرماتے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ امام مالکؒ، شافعیؒ، احمدؒ اور اسحاقؒ کا یہی مذہب ہے۔

مگر ان چاروں ائمہ کے نزدیک ایک رکعت وتر سے پہلے دو رکعت نفل پڑھنے ضروری ہیں، مگر ہمارے نزدیک ایک رکعت وتر دو رکعت نفل کے ساتھ مشروط نہیں ہے، یعنی اگر دو رکعت نفل کے بغیر بھی ایک رکعت وتر پڑھا جائے تو یہ بھی جائز ہے، چنانچہ ابو داؤد مع عون المعبود میں ہے:

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوِتْرُ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِخَمْسٍ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِثَلَاثةفَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيَفْعَلْ۔ (عون المعبود: ص۵۳۵ج۱)

’’حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ وتر ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، جسے پانچ وقر پسند ہوں وہ پانچ پڑھے، جسے تین محبوب ہوں وہ تین پڑھ لے اور جو ایک وتر پڑھنا چاہے وہ ایک بھی پڑھ سکتا ہے۔‘‘

اس روایت کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے موقوف قرار دیا ہے۔ محمد بن اسماعیل الامیرالیمانی فرماتے ہیں:

وله حکم الرفع اذلا مسرح للاجتھاد فيه ای فیالمقادیر۔ (ص۸ج۲ باب صلوة التطرع تحفة الأوحوذی: ص۲۲۹ج۱، التعلقات السلفيه السلفية: ص۲۰۲ج۱)

یہ حدیث مرفوع حدیث کےحکم میں ہے کیونکہ رکعات وتر کی تعیین میں اجتہاد کو دخل نہیں۔‘‘

(۳)۔عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا، فَأَوْتَرَتْ۔ (صحیح مسلم مع نووی: ص۲۵۵ ج۱ باب صلوة اللیل وعدد رکعات)

’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ رات کو قیام فرماتے، جب وتر باقی رہ جاتا تو مجھے بھی سامنے سے بیدار کر لیتے تو میں بھی وتر پڑھ لیتی۔‘‘

اس حدیث میں ایسی کوئی تصریح نہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک وتر سے پہلے دو نفل پڑھے ہوں۔‘‘

امام خطابی فرماتے ہیں:

ذَهَبَ جَمَاعَةٌ مِنَ السَّلَفِ إِلَى أَنَّ الْوِتْرَ رَكْعَةٌ مِنْهُمْ عُثْمَانُ بْنُ عَفَانَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَزَيْدُ بن ثابت وأبي موسى الأشعري وبن عباس وعائشة وبن الزبير وغیرھم۔ (عون المعبود: ۵۲۲ج۱)

’’سلف کی ایک جماعت ایک وتر کی قائل ہے جن میں حضرت عثمان بن عفان، سعد بن ابی وقاص، زید بن ثابت، ابو موسیٰ، ابن عباس،  عائشہ اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم سر فہرست ہیں۔‘‘

ان کے علاوہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک وتر جائز اور صحیح ہے۔

 

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص508

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)