فتاویٰ جات: عبادات
فتویٰ نمبر : 14337
(144) بے نماز اور فیشنی حافظ کا نماز تراویح پڑھانا؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 24 December 2015 10:33 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک حافظ پانچ وقتی نماز کا پابند نہیں۔ صرف رمضان کے دنوں میں پابندی کرتا ہے۔ اس کے بعد اکثر اوقات بے نماز رہتا ہے۔ کیا رمضان میں اس کو امام التراویح مقرر کیا جا سکتا ہے؟ نیز وہ ہمیشہ انگریزی حجامت بنواتا ہے؟

(سائل: یکے از چک نمبر ۲۳ جنوبی ضلع سرگودھا)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نمازوں میں سستی کرنے والا اور انگریزی بال بنانے والا اس قابل نہیں ہے کہ اسے امامت نماز کے منصب پر مقرر کرنے کا اہل سمجھا جا سکے۔ کیونکہ امامت کا منصب جلیل اتنا مقدس اور اہم ہے کہ اسلامی شکل وصورت رکھنے والا متقی آدمی بھی جب قبلہ رخ تھوکنے کا ارتکاب کرے تو اسے امامت سے معزول کر دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: "لَا يُصَلِّي لَكُمْ" فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فقَالَ: "نَعَمْ"، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: "إِنَّكَ آذَيْتَ الله ورسوله۔ (اخرجه ابو داؤد وسکت عليه والمنذری) عون المعبود: ص۱۸۱ج۱، نیل الاوطار: ص۱۸۶ج۳ باب ما جاء فی امامة الغاسق۔) 

’ایک شخص نے لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے قبلہ کی جانب تھوک دیا جب کہ نبی کریمﷺ بھی دیکھ رہے تھے۔اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ تمہیں یہ شخص دوبارہ نماز نہ پڑھائے، چنانچہ جب وہ امام دوبارہ جماعت کرانے پر تیار ہوا تو لوگوں نے اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے انکار کرتے ہوئے اسے بتایا کہ آنحضرتﷺ نے تمہیں امامت سے معزول کر دیا ہے۔ جب اس نے آنحضرتﷺ سے رابطہ قائم کیا تو آپﷺ نے ہاں میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو تکلیف دی ہے۔‘‘

یہ حدیث ابن حبان میں بھی ہے۔ (عون المعبود) نیز دیکھیے زوائد ابن حبان(ص۲۰۳)

دوسری حدیث:

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو،  قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُصَلِّي لِلنَّاسِ صَلَاةَ الظُّهْرِ، فَتَفَلَ فِى الْقِبْلَةِ وَهُوَ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، فَلَمَّا كَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ أَرْسَلَ إِلَى آخَرَ، فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولُ أَنَزَلَ فيَّ؟، قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّكَ تَفَلْتَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَأَنْتَ تَؤُمُّ النَّاسَ، فَآذَيْتَ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ۔ (رواه الطبرانی فی الکبیر باسناد جید (عون) المعبود ج۱ص۱۸۱)

’’ظہر کی نماز پڑھانے کے لئے آنحضرتﷺ نے ایک آدمی مقرر فرمایا تو اس نے نماز پڑھاتے ہوئے قبلہ کی طرف تھوک دیا۔ اس پر نبیﷺ نے اس کے اس فعل کی وجہ سے عصر کی نماز کے لئے دوسرے آدمی کو مقرر کر دیا۔ جب اس شخص نے آپﷺ سے وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایا کہ تو نے نماز کے دوران قبلہ رو تھوک کر اللہ اور ملائکہ کو تکلیف دی ہے‘‘

جب کہ متقی پرہیز گار شخص کو ادنیٰ سی سستی(قبلہ رخ تھوکنا) کی وجہ سے امامت سے معزول اور الگ کیا جا سکتا ہے تو پھر ایسا حافظ قرآن جو صرف رمضان میں پابند صلوٰۃ ہو اور مزید برآن انگریزی بال رکھتا ہو وہ امامت کا اہل کیسے ہو سکتا ہے۔ حق امامت صرف افضل اور بہتر شخص کو ہی پہنچتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، وَكَانَ، بَدْرِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ سَرَّكُمْ أَنْ تُقْبَلَ صَلَاتُكُمْ، فَلْيَؤُمَّكُمْ خِيَارُكُمْ، فَإِنَّهُمْ وُفُودُكُمْ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ۔ (اخرجه الحاکم فی ترجمة مرثد الغنوی (نیل الأوطار: ص۱۸۶ج۳)

’’اگر تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہاری نمازیں قبول کر لی جائیں تو پھر ضروری ہے کہ تمہارے امام سب سے بہتر اور پسندیدہ لوگ ہوں، کیونکہ امام تمہارے اور اللہ کے درمیان سفیر ہوتے ہیں۔’’

نیز حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ہے:

قال قال رسول اللہﷺ اِجْعلُو اثمتَکُمْ خِیَارَکُمْ فانَّھُمْ وَفْدکُم فیمَا بَینکُم وَبَینَ رَبکُم۔ (رواه الدارقطنی وفی اسنادہ سلام بن سلیمان وھو ضعیف، کذا فی النیل: ص۱۸۴ ج۳)

نیز نیل الاوطار میں ہے کہ اختلاف اشراط عدالت میں ہے، نفس صحت نماز میں نہیں۔

لأن کُلَّ مَن صَحتُصلوته لنفسه صحت لغیره (ص۱۸۰ج۳)

بہر حال نمازوں کی پابندی نہ کرنے والا اور انگریزی بالوں والا حافظ قرآن چونکہ خود نماز کا چور اور نافرمان رسولﷺ ہے لہٰذا ایسے شخص کو امام نہیں بنانا چاہیے۔ گو غیر اختیاری حالات میں یا اتفاقاً کبھی موقع پیش آ جائے تو نماز اس کے پیچھے ہو جائے گی، تاہم اس سے بہتر شخص کی اقتدار میسر ہو تو اولیٰ وہی ہو گی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص492

محدث فتویٰ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)