فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 14322
(130) امام كا بيماری وجہ سے نماز کے ارکان و فرائض کو صحیح طرح سے پورے نہ کر سکے تو؟
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 23 December 2015 11:10 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صورت احوال یہ ہے کہ بندہ عرصہ ۳۳ سال سے جامع مسجد اہلحدیث شاد باغ لاہور میں درس وتدریس، خطابت اور امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے، لیکن ۱۹۹۴ء میں مجھ پر فالج کا حملہ ہوا۔ اب الحمدللہ علاج معالجے کے بعد روبصحت ہوں، لیکن دایاں ہاتھ ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا اور عرصہ دو سال سے نماز ظہر اور نماز عصر پڑھا رہا ہوں۔

گزشتہ دنوں چند نمازیوں نے کہا کہ میں امامت کے دوران نماز کے ارکان ٹھیک طورپر ادا نہیں کرتا۔ حالانکہ بہت سے نمازیوں نے کہا کہ مجھے نماز پڑھاتے رہنا چاہیے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

اب میں آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ اسؤ حسنہ کی روشنی میں میری نماز کی ادائیگی دیکھ کر احباب کے لیے رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ (آمین)(ڈاکٹر مولانا عبدالغفور مہتمم مدرسہ بلاغ التوحید زیر نگرانی انجمن اہلحدیث رجسٹرڈ شادباغ لاہور)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ٓپ کی نماز کی ادائیگی کے بارے میں کچھ کہنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نماز فرائض اور ارکان کی ایک ہلکی پھلکی فہرست پیش کر دوں تاکہ اس فہرست کو سامنے رکھ کر آپ کے مقتدی آپ کی نماز کی ادائیگی کے بارے میں صحیح رائے قائم کر سکیں اور معترضین بپنے مؤقف کا صحیح جائزہ لے سکیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص437

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)