فتاویٰ جات: تذکرہ مشاہیر
فتویٰ نمبر : 14318
(126) متكبر امام کے پیچھے نماز پڑھنا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 23 December 2015 10:24 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مولوی محمد اسحاق بھٹی ہمارے چک نمبر ۳۷ نزوپاکپتن کے خطیب ہیں۔ مولوی مذکور میری حقیقی والدہ کے چچازاد بھائی ہیں اور وہ مجھے اپنا بھانجا نہیں بتاتے اور اگر میں ان کو ما موں کہہ کہ پکاروں تو ناراض ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے ماموں نہ کہو اور نہ ہی میں تیرا ماموں بن سکتا ہوں۔ ایسے متکبر کے پیچھے نماز ہو سکتی ہے یا نہیں؟ حالانکہ میری والدہ مرحومہ مولوی صاحب مذکور کی چچا زاد بہن تھیں تو آپ سے سوال یہ ہے کہ امام ہذا کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ ہمیشہ کے لیے یہ شخص امام رہ سکتا ہے یا نہیں؟ جواب لکھ کر مشکور فرمائیں۔

(سائل: عبداللطیف جوئیہ ولد میاں عبدالرحیم جوئیہ چک نمبر ۳۷  ایس پی ڈاک خانہ خاص تحصیل وضلع پاکپتن)

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جیسا کہ آپ نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ مولوی اسحاق صاحب آپ کی والدہ کا چچازاد بھائی ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کی والدہ کا غیر محرم ہے یعنی وہ آپ کی والدہ کے ساتھ شرعاً نکاح کرسکتا ہے۔ بتلائیے اس صورت میں وہ آپ کا ماموں کیسے لگتا ہے؟ اگر اس کی غیرت اس کو یہ اجازت نہیں دیتی تو اس میں تکبر کی کون سی بات ہے۔ آپ اس کو ماموں کی بجائے مولوی صاحب کہ کر بھی بلا سکتے ہیں۔ غرضیکہ آپ کا ماموں صرف وہ ہے جو آپ کی والدہ کا شقیق، یعنی سگا بھائی ہے یا پھر رضاعی بھائی ہے اور بس۔ لہٰذا اس کی امامت شرعاً جائز ہے اور اس کی اقتدا میں بلا شبہ نماز جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی اور مانع شرعی نہ پایا جاتا ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص431

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)