فتاویٰ جات: نفاق
فتویٰ نمبر : 14314
بغض اور كينہ کی وجہ سے امام کو معزول کرنا
شروع از Rafiqu ur Rahman بتاریخ : 22 December 2015 05:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو چار آدمی اپنے ذاتی بغض اور کینہ کی وجہ سے کسی با شرع امام اور عالم دین کو امامت اور خطابت سے باز رکھنے کے لیے مسجد کی جماعت کے امیر کو پابند کریں۔ جب کہ جماعت کے تیس چالیس نمازی اس موصوف امام کی امامت اور خطابت پر متفق ہوں۔ ان کے علاوہ علاقہ کی جمعہ کی نماز پڑھنے والوں کی کثیر تعداد موصوف کو پسند کرتی ہو۔ امام موصوف جماعت کی  مجلس عاملہ کا ممبر بھی ہے۔ اور ایک باقاعدہ اور مقامی نمازی بھی ہے۔ کتاب وسنت کی روشنی میں جماعت کے امیر، اور ان چار آدمیوں کے متعلق کیا حکم ہے۔ جب کہ امام موصوف کی موجودگی میں ایک ان پڑھ اور کتاب وسنت سے نابلد نمازی امامت کرائے؟

 


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرعی عذر کے بغیر ذاتی عداوت اور اختلاف کی بنا پر اس امام کو منصب امامت سے الگ کرنا جائز نہیں۔ ہاں، اگر کوئی شرعی عذر ہو تو پھر اس کو امامت سے الگ کیاجا سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کی علیحدگی کی صورت میں کسی فتنہ اور جماعتی اختلاف کا خطرہ نہ ہو۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ محمدیہ

ج1ص427

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)