فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 143
(206) مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد
شروع از بتاریخ : 05 December 2011 03:45 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنا یا ان کو سپورٹ مہیا کرنا درست ہے۔؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے جب شیخ صالح المنجد سے سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا:

علماء اسلام کا فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنا جائز نہيں اورایسا کرنا کفر اور ارتداد ہے ۔

کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

’’اے ایمان والو تم یہودد ونصاری کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہيں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہيں دکھاتا‘‘ المائدۃ ( 51 ) ۔

فقہاء اسلام جن میں آئمہ حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ ، اورحنابلہ اور ان کے علاوہ باقی سب شامل ہیں نے بالنص یہ بات کہی ہے کہ کفار کو ايسی چيز بیچنا حرام ہے جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف طاقت حاصل کریں چاہے وہ اسلحہ ہو یا کوئي جانور اورآلات وغیرہ ۔

لہذا انہيں غلہ دینا اورانہيں کھانا یا پینے کے لیے پانی وغیرہ یا کوئي دوسرا پانی اورخیمے اورگاڑیاں اور ٹرک فروخت کرنا جائز نہيں ، اورنہ ہی ان کی نقل وحمل کرنا ، اوراسی طرح ان کےنقل وحمل اورمرمت وغیرہ کے ٹھیکے حاصل کرنا بھی جائز نہيں بلکہ یہ سب کچھ حرام میں بھی حرام ہے ، اور اس کا کھانے والا حرام کھا رہا ہے اورحرام کھانے والے کے لیے آگ یعنی جہنم زيادہ بہتر ہے ۔

لہذا انہیں ایک کھجور بھی فروخت کرنی جائز نہیں اورنہ ہی انہیں کوئی اسی چيز دینی جائز ہے جس سے وہ اپنی دشمنی میں مدد وتعاون حاصل کرسکیں ، لھذا جومسلمان بھی ایسا کرے گا اسے آگ ہی آگ ہے اوریہ ساری کی ساری کمائی حرام اورگندی ہوگی اس کے لیے جہنم زیادہ اولی ہے ، بلکہ یہ کمائی تو اخبث الخبث کا درجہ رکھتی ہے ۔

انہیں کوئی ادنی سی بھی ایسی چيز دینی جائز نہيں جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف مدد حاصل کرسکتے ہوں ۔

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " المجموع " میں کہتے ہیں :

اہل حرب یعنی ( لڑائی کرنے والے کافروں ) کو اسلحہ بیچنا بالاجماع حرام ہے ۔ اھـ

اورحافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " اعلام الموقعین میں کہا ہے :

امام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ میں اسلحہ فروخت کرنے کے لیے منع کیا ہے ۔۔۔۔ اوریہ تومعلوم ہی ہے کہ اس طرح کی فروخت میں گناہ اوردشمنی میں معاونت پائی جاتی ہے ، اوراسی معنی میں ہر وہ خریدوفروخت یا اجرت اورمعاوضہ جو اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی میں معاونت کرے وہ بھی حرام ہے مثلا کفار یا ڈاکووں کو اسلحہ فروخت کرنا ۔۔۔۔ یا کسی ایسے شخص کو مکان کرائے پر دینے جو وہاں معصیت ونافرمانی کا بازار گرم کرے ۔

اوراسی طرح کسی ایسے شخص کو شمع فروخت کرنا یا کرائے پردینا جواس کے ساتھ اللہ تعالی کی نافرمانی ومعصیت کرے یا اسی طرح کوئي اورکام جواللہ تعالی کے غيظ وغضب دلانے والے کام میں معاون ثابت ہو ۔اھـ

اورالموسوعة الفقھیةمیں ہے کہ :

اہل حرب اورایسے شخص جس کے بارہ میں معلوم ہو کہ وہ ڈاکو ہے اورمسلمانوں کولوٹے گا یا پھر مسلمانوں کے مابین فتنہ پھیلائے گا اسے اسلحہ بیچنا حرام ہے ۔

حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

کسی بھی مسلمان کےلیے حلال نہيں کہ وہ مسلمانوں کے دشمن کے پاس اسلحہ لیجائے اورانہیں مسلمانوں کے مقابلہ میں اسلحہ کے ساتھ تقویت دے ، اورنہ ہی انہیں گھوڑے ، خچر اورگدھے دینا حلال ہیں ، اورنہ کوئی ایسی چيز جواسلحہ اورگھوڑے ، خچر اورگدھوں کے لیے ممد ومعاون ہو ۔

اس لیے کہ اہل حرب کو اسلحہ بيچنا انہیں مسلمانوں سے لڑائی کرنے میں تقویت پہنچانا ہے ، اوراس میں ان کے لیے لڑائی جاری رکھنے اوراسے تیز کرنے میں بھی تقویت ملتی ہے ، کیونکہ وہ ان اشیاء سے مدد حاصل کرتے ہیں جس کی بنا پر یہ ممانعت کی متقاضی ہے ۔ اھـ

دیکھیں الموسوعةالفقھية ( 25 / 153 )۔

یہ مسئلہ کوئي عادی اورعام یا پھر چھوٹا ساگناہ و معصیت نہيں بلکہ یہ مسئلہ توعقیدہ توحید اورمسلمان کی اللہ تعالی کے دین سے محبت اوراللہ کے دشمنوں سے برات و لاتعلقی سے تعلق رکھتا ہے ، آئمہ کرام نے اپنی کتب میں اس کے بارہ میں اسی طرح لکھا ہے ۔

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے اپنے فتوی میں کہا ہے :

علماء اسلام کا اس پراجماع ہے کہ جس نے بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کی مدد ومعاونت کی اورکسی بھی طریقہ سے ان کی مدد کی وہ بھی ان کی طرح ہے کافر ہے ۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :’’اے ایمان والو تم یھود ونصاری کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہيں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہيں دکھاتا‘‘ المائدۃ ( 51 ) ۔ دیکھیں : فتاوی ابن باز رحمہ اللہ ( 1 / 274 ) ۔

پس ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی کافر کی کسی بھی اعتبار سے مدد حرام اور کفر ہے۔ہاں!کفار کے خلاف کفار کی مدد کی جا سکتی ہے جبکہ مقصود ظلم کا خاتمہ ہو یا کفر کی شان وشوکت کا خاتمہ ہو۔

 ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)