فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14256
احتکار کا معنی ومفہوم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 August 2015 11:57 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو لوگ زمینیں اس مقصد کے لیے خریدتے ہیں کہ بعد میں انکی قیمت بڑھ جائے گی تو بیچ دیں گے احتکار میں آتی ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نہیں! یہ ذخیرہ اندازی یا احتکار میں نہیں آتا ہے۔کیونکہ احتکار میں وہ چیز مارکیٹ سے بالکل نایاب ہو جاتی ہے اور کہیں سے بھی اس کا مناسب ریٹ پر ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔جبکہ زمین کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا ہے ،بلکہ متعدد مقامات پر زمین دستیاب موجود ہوتی ہے۔اس کی قیمت تو ایک فطری طریقے سے بڑھ رہی ہوتی ہے،بلکہ اگر اس کو زیادہ بار بیچا جائے تو قیمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔چہ جائیکہ اسے روک رکھا جائے اور لیٹ کر کے بیچا جائے۔

دوسری بات یہ ہے کہ احتکار کی ممانعت ان ضروری اشیاء کے بارے میں ہے جن کی لوگوں کو اشد ضرورت ہو اور وہ مل نہ رہی ہو،جبکہ زمین تو ہر وقت دستیاب ہوتی ہے،اگر ایک جگہ دستیاب نہیں تو دیگر بیس جگہ بک رہی ہے۔زمین کی قیمت کا بڑھنا ایک طبعی عمل ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)