فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 14247
تلفیق اور اس کا شرعی حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 28 July 2015 10:25 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

تلفیق کا شرعی حکم کیا ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تلفیق کامفہوم یہ ہے کہ کسی مسئلے میں مختلف مسالک کی آرا ءکو قبول کیاجائے اور ایسی صورت ہوجائے کہ کہنامشکل ہوکہ یہ کس مسلک کے مطابق ہے۔تلفیق کے جواز وعدم جواز کے حوالے سے اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔اور راجح موقف یہی ہے کہ یہ جائز ہے الا یہ کہ اس سے کوئی فساد لازم آتا ہو کیونکہ کسی شخص پر بھی کسی امام کی تقلید کرنا ضروری نہیں ہے ۔

تلفیق کے بارے میں شام کے معروف عالم دین ڈاکٹر وہبہ ذہیلی اپنی کتاب "فقہ الاسلام وادلتہ"میں فرماتے ہیں کہ:

اگر تو یہ تلفیق حاجت اور ضرورت کے تحت ہو تو مالکیہ اور بعض حنفیہ کے نزدیک جائز ہے اور اگر رخصتوں کے حصول کے لیے ہوتو مذموم ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)